.

الاخوان المسلمون کے رہ نما عصام العریان جیل میں دل کا دورہ پڑنے سے فوت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر میں الاخوان المسلمون تنظیم کے رہ نما ڈاکٹر عصام العریان جمعرات کے روز جیل میں دل کا دورہ پڑنے سے انتقال کر گئے۔

ذرائع نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو بتایا کہ 66 سالہ العریان الاخوان کے دو رہ نماؤں کے ساتھ تنظیم کی موجودہ صورت حال، اس کی غلطیوں اور مستقبل کی پالیسی کے حوالے سے بات چیت کر رہے تھے۔ اس دوران یہ بات چیت شدید بحث اور زبانی جھگڑے تک پہنچ گئی جس کے بعد العریان کو اچانک دل کا دورہ پڑا۔ جیل کے ڈاکٹر کے پہنچنے سے پہلے ہی انہوں نے اپنی زندگی کی آخری سانسیں پوری کر لیں۔ ذرائع کے مطابق بحث میں شریک دیگر دو شخصیات میں الاخوان کے ایک سینئر رہ نما شامل تھے۔ ان کے علاوہ دوسری شخصیت سابق صدر محمد مرسی کے صدارتی بیورو میں کام کرتی تھی۔

الاخوان کے مرشد عام کے سابق مشیر مختار نوح نے العربیہ ڈاٹ نیٹ سے گفتگو کرتے ہوئے اس بات کی تصدیق کی کہ جیل میں قید الاخوان کے رہ نماؤں کے درمیان زبانی تلخ کلامی کا یہ پہلا موقع نہیں تھا۔ کئی برس پہلے سابق صدر محمد مرسی اور بعض دیگر رہ نماؤں کے درمیان بھی شدید نوعیت کی بحث سامنے آئی تھی۔

مختار نوح کے مطابق عصام العریان الاخوان تنظیم کو کنٹرول کرنے والے مخصوص حلقے کے اندر کبھی بھی مقرب یا پسندیدہ شخصیت شمار نہیں ہوئے۔ تنظیم کے ایک سابق مرشد عام مہدی عاکف کے سوا رہ نمائی بیورو میں کسی نے بھی العریان کی حمایت نہیں کی۔

نوح نے بتایا کہ العریان تنظیم کے حوالے سے کسی بھی معاملے میں اپنا موقف ظاہر کر دیتے تھے جب کہ تنظیم کا مقتدر حلقہ اسے مسترد کر دیا کرتا۔ العریان کی آراء مذکورہ حلقے کے افراد سے مکمل طور پر مختلف ہوتی تھی۔ تنظیم کے با اثر حلقے کا موقف سابق صدر محمد مرسی کے مقابل بھی مختلف ہوا کرتا تھا۔ مرسی نے اپنے دور میں غیر اخلاقی امور سے متعلق اسکینڈل پر سرکاری صدارتی ترجمان کو برخاست کرنے کا فیصلہ کیا تاہم با اثر حلقے کی مداخلت کے بعد اس ترجمان کو کابینہ کے فیصلوں کی سپورٹ کرنے والی کونسل کا ذمے دار مقرر کر دیا گیا۔

بین الاقوامی دہشت گردی کے امور کے محقق احمد عطا نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو بتایا کہ عصام العریان نے جیل میں رہنے کے دوران الاخوان کی بیرون ملک قیادت پر الزام عائد کیا کہ وہ تنظیم کے امور چلانے میں ناکام ہو چکی ہے۔ العریان کے مطابق مذکورہ قیادت کی ناکام پالیسیوں کی قیمت وہ اور مصر میں موجود دیگر رہ نما اپنی زندگی اور صحت کی صورت میں چکا رہے ہیں۔