.

امارات اور اسرائیل کے درمیان معاہدے پر دستخط 3 ہفتوں کے اندر وائٹ ہاؤس میں ہوں گے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ متحدہ عرب امارات اور اسرائیل کے درمیان امن معاہدے پر دستخط آئندہ تین ہفتوں کے دوران کر دیے جائیں گے۔ معاہدے پر اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو اور ابوظبی کے ولی عہد شیخ محمد بن زاید آل نہیان دستخط کریں گے۔ اس معاہدے کے تحت اسرائیلی مزید فلسطینی اراضی ضم کرنے کے منصوبے پر عمل روک دے گا۔

ٹرمپ نے مزید بتایا کہ "میں مذکورہ دونوں شخصیات کا وائٹ ہاؤس میں جلد خیر مقدم کرنے کا خواہاں ہوں۔ اس سلسلے میں دونوں شخصیات واشنگٹن آئیں گی"۔

اس سے قبل ٹرمپ نے جمعرات کے روز باور کرایا تھا کہ امارات اور اسرائیل کے درمیان معاہدہ ایک تاریخی لمحہ ہے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ اسرائیل اور امارات سرکاری طور پر تعلقات استوار کریں گے۔ امریکی صدر نے دلیرانہ قیادت پر امارات اور اسرائیل کا شکریہ ادا کیا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ، اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو اور ابوظبی کے ولی عہد شیخ محمد بن زاید آل نہیان نے جمعرات کے روز ٹیلیفونک رابطے میں اسرائیل اور متحدہ عرب امارات کے درمیان مکمل صورت میں دو طرفہ تعلقات استوار کرنے پر اتفاق رائے کا اظہار کیا تھا۔ متحدہ عرب امارات کی سرکاری خبر رساں ایجنسی "وام" کے مطابق یہ بات تینوں فریقوں کی جانب سے جاری ایک مشترکہ بیان میں بتائی گئی۔

عرب ممالک اور بین الاقوامی سطح پر خیر مقدم

امریکا کی سرپرستی میں امارات اور اسرائیل کے درمیان امن معاہدے پر عرب دنیا سے ردود عمل سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں۔ بحرین نے اس معاہدے کا خیر مقدم کیا ہے جس کی رُو سے فلسطینی ارضی کو اسرائیل میں ضم کرنے کا عمل روک دیا جائے گا۔ منامہ حکومت کے مطابق امارات اور اسرائیل کے درمیان یہ معاہدہ امن تک پہنچنے کے مواقع کو مضبوط بنائے گا۔ بحرین کا کہنا ہے کہ "ہم فلسطینیوں کے لیے ایک منصفانہ اور جامع حل تک پہنچنے کے واسطے مزید کوششوں کے خواہاں ہیں"۔

ادھر مصری صدر عبدالفتاح السیسی نے جمعرات کے روز کہا کہ انہوں نے امارات، اسرائیل اور امریکا کی جانب سے جاری مشترکہ بیان کو "بھرپور توجہ اور انتہائی قدر" سے دیکھا ہے۔

اردن نے اس سمجھوتے پر تبصرہ کرتے ہوئے دو ٹوک انداز میں اعلان کیا ہے کہ "اسرائیل کو امن یا تنازع میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا ہو گا"۔ اردن نے باور کرایا کہ وہ منصفانہ اور جامع امن تک پہنچنے کے لیے کسی بھی حقیقی کاوش کی مکمل حمایت کرتا ہے۔ عَمّان حکومت کے مطابق "امارات اور اسرائیل کے بیچ معاہدے کے امن پر اثرات ،،، تل ابیب کے اقدامات پر منحصر ہوں گے ... فلسطینی اراضی کے ضم کا عمل منجمد کرنے کے فیصلے کے بعد اسرائیل کو چاہیے کہ وہ اپنے تمام غیر قانونی اقدامات کا سلسلہ روک دے"۔

بین الاقوامی سطح پر برطانوی وزیر اعظم بورس جانسن نے اپنی ٹویٹ میں کہا ہے کہ "امارات اور اسرائیل کے درمیان تعلقات استوار کرنے کی خبر بہت اچھی ہے۔ میری شدید خواہش تھی کہ مغربی کنارے کو ضم کرنے کے حوالے سے پیش رفت نہ ہو۔ آج اس منصوبے پر عمل درامد معطل کرنے کا فیصلہ زیادہ پر امن مشرق وسطی کی جانب ایک خوش آئند اقدام ہے"۔

فرانس نے بھی امارات اور اسرائیل کے درمیان مذکورہ معاہدے کا خیر مقدم کیا ہے۔ فرانسیسی وزارت خارجہ کے مطابق "اسرائیل کی جانب سے مغربی کنارے کو ضم کرنے کا عمل منجمد کرنے کا فیصلہ مثبت قدم ہے ... امارات اور اسرائیل کے درمیان معاہدہ مذاکرات کے دوبارہ آغاز کا موقع فراہم کرے گا تا کہ دو ریاستی حل تک پہنچا جا سکے"۔

اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل انتونیو گوٹیرس نے اس امید کا اظہار کیا ہے کہ امارات اور اسرائیل کے بیچ طے پانے والا امن سمجھوتا ،،، اقوام متحدہ کی قرار دادوں اور بین الاقوامی قانون کی روشنی میں دو ریاستی حل کو یقینی بنانے میں کردار ادا کرے گا۔