.

حزب اللہ نے سانحہ بیروت کی عالمی تحقیقات کا مطالبہ مسترد کر دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لبنانی حزب اللہ کے سکریٹری جنرل حسن نصراللہ نے جمعہ کے روز کہا ہے ان کی جماعت بیروت بندرگاہ دھماکوں کی تحقیقات کے نتائج کا انتظار کرے گی لیکن اگر یہ ثابت ہوجاتا ہے کہ یہ اسرائیل کے ذریعہ ہونے والی تخریب کاری کا ایک فعل تھا تو اس کی قیمت ادا کرنا ہوگی۔

نصراللہ نے ٹیلیویژن خطاب میں مزید کہا کہ اس وقت سانحہ بیروت سے متعلق دو 'تھیوریاں' گردش کر رہی ہیں جن کے ارد گرد تحقیقات گھوم رہی ہیں: یا تو یہ کوئی حادثہ تھا یا تخریب کاری کا ایک واقعہ تھا جس کے نتیجے میں ایک گودام میں موجود امونیم نائٹریٹ پھٹ گیا۔

اسرائیل نے 4 اگست کو ہونے والے بم دھماکے سے کسی بھی تعلق سے انکار کیا ہے۔

بتایا جاتا ہے کہ اس دھماکے میں جس نے پورے علاقے میں زلزلے کی کیفیت پیدا کی تھی کے نتیجے میں کم از کم 154 افراد ہلاک اور 5000 سے زیادہ زخمی ہوئے۔ یہ اعداد و شمارغیرحتمی ہیں کیونکہ ابھی بھی درجنوں افراد لاپتہ ہیں جبکہ دسیوں ہزار لوگ بے گھر ہیں۔

لبنانی حکام نے بتایا کہ یہ دھماکا دارالحکومت کے بندرگاہ کے وارڈ نمبر 12 میں واقع ایک گودام میں لگی آگ کی وجہ سے ہوا ہے جہاں چھ سالوں سے تقریبا 2750 ٹن امونیم نائٹریٹ کو "بغیر کسی احتیاطی اقدامات کے" محفوظ کیا گیا ہے۔

دھماکے سے دارالحکومت کی تباہی کے بعد عوام نے حکومت پر مجرمانہ غفلت برتنے کا الزام عاید کیا جاتا ہے۔ اس واقعے کے بعد عوام میں حکومت وقت کے خلاف شدید غم وغصہ کی لہر سامنے آئی جس کے نتیجے میں حکومت کو استعفا دینا پڑا۔