.

سلامتی کونسل نے ایران پر اسلحہ پر پابندی کی مدت میں توسیع کی قرارداد مسترد کر دی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے امریکا کی جانب سے ایران پر اسلحہ کے حصول پر پابندی کی مدت میں توسیع سے متعلق پیش کی گئی قرارداد مسترد کردی ہے۔

امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے قرار داد کے مسترد کیے جانے کی تصدیق کرتے ہوئے اس پر سخت مایوسی کا اظہار کیا ہے۔

پومپیو نے سلامتی کونسل میں ایران پر اسلحہ پر پابندی سے متعلق قراداد کے مسودے پر رائے شماری سے کچھ دیر قبل ہی ایک بیان میں کہا کہ بین الاقوامی امن اور سلامتی کے دفاع میں فیصلے کرنے میں سلامتی کونسل کی ناکامی کا جواز نہیں دیا جاسکتا۔

امریکی مندوب کیلی کرافٹ نے سلامتی کونسل کے ممبران پر کڑی تنقید کرتے ہوئے دایت کرتے ہوئے کہا ہم آنے والے دنوں میں ایران پر پابندیوں کا نفاذ کریں گے۔

اقوام متحدہ میں ایران کے سفیر نے متنبہ کیا ہے کہ ایران پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی کسی بھی قسم کی پابندیوں کی تجدید کو مسترد کرے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمارے پاس بہت سے آپشن موجود ہیں۔

ایران کے حوالے سے سلامتی کونسل میں امریکا کی تنہائی میں اضافہ اس وقت ہوا جب صدر ڈونلڈ ٹرمپ مئی 2018 میں جوہری معاہدے سے دستبردار ہوئے تھے۔

العربیہ اور الحدث ٹی وی چینلوں کے نامہ نگار نے بتایا کہ 11 ممالک نے ایران پر ہتھیاروں کے پابندی کے مسودے کے حق میں ووٹ نہیں۔ ان ممالک میں برطانیہ، فرانس اور جرمنی شامل ہیں جب کہ دو ممالک روس اور چین نے اس کی مخالفت کی۔ امریکا اور جمہوریہ ڈومینیکن کونسل کے پندرہ ممبروں میں سے صرف دو تھے جنہوں نے قرارداد کے مسودے کے حق میں ووٹ دیا۔

یہ توقع نہیں کی گئی تھی کہ امریکی مسودہ قرارداد نو ووٹ حاصل کرنے میں کامیاب ہوجائے گی۔

اس سے قبل روسی صدر ولادیمیر پوتین نے جرمنی اور ایران کے علاوہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے پانچ مستقل ممبران پر مشتمل ورچوئل سربراہی اجلاس کے انعقاد کی تجویز پیش کی تھی تاکہ ایران پر اسلحہ کی پابندی سے متعلق تصادم سے بچنے کے لئے اقدامات کیے جاسکیں۔ فرانس نے اس تجویز کی حمایت کرنے کا اعلان کیا تھا۔

کریملن کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں پوتین نے جمعہ کے روز انکشاف کیا کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں ایران کے بارے میں تبادلہ خیال تناؤ کا شکار ہے۔ کونسل نے تہران پر اسلحہ کی پابندی میں توسیع کے بارے میں امریکی تجویز پر جمعرات کو ووٹنگ شروع کی۔ روس اور چین جن کے پاس ویٹو اختیارات ہیں ، امریکی تجویز کے خلاف ہیں۔