.

ترکی نے اجرتی جنگجوؤں کی نئی کھیپ کو دھوکے سے لیبیا پہنچایا: رپورٹ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترکی کی جانب سے اجرتی جنگجوؤں کو مختلف طریقوں سے لیبیا منتقل کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔ شامی گروپوں کے بعض عناصر کو مال کا لالچ دے کر اور شام میں ان کے ابتر معاشی حالات سے فائدہ اٹھانے کے بعد اب ایسا نظر آ تا ہے کہ انقرہ نے دھوکہ دہی کے ذریعے اجرتی جنگجوؤں کو منتقل کرنے کا نیا طریقہ تلاش کر لیا ہے۔

شام میں انسانی حقوق کے نگراں گروپ المرصد نے کچھ روز قبل اجرتی جنگجوؤں کی منتقلی اور آمد و رفت کے حوالے سے اپنی تازہ رپورٹ جاری کی۔ رپورٹ کے مطابق ترکی نے درجنوں جنگجو عناصر کو اس طرح دغا دی کہ پہلے انہیں کہا گیا کہ وہ قطر میں تنصیبات کی حفاظت کے واسطے ایک آسان سے مشن پر جا رہے ہیں تاہم سفر کے فوری بعد ان افراد کو بتایا گیا کہ ہدایات میں تبدیلی ہو گئی ہے اور ان کی منزل بھی تبدیل کر دی گئی ہے۔

رپورٹ میں واضح کیا گیا کہ ترک انٹیلی جنس نے انقرہ کے ہمنوا شامی مسلح گروپوں کے تقریبا 120 جنگجوؤں کو دھوکا دیا۔ یہ افراد جب شام کے علاقے عفرین سے ترکی روانہ ہوئے تو اس موقع پر یہ انکشاف کیا گیا کہ اب انہیں قطر کے بجائے لیبیا جانا ہے تا کہ طرابلس میں وفاق حکومت کی فورسز اور گروپوں کی سپورٹ کی جا سکے۔

ترکی انٹیلی جنس نے سلیمان شاہ، فیلق الشام اور السلطان مراد نامی گروپوں کے کم از کم 120 جنگجوؤں کو عفرین سے ترکی اور پھر لیبیا منتقل کیا۔

یاد رہے کہ المرصد کے اعداد و شمار کے مطابق اب تک تقریبا 17420 اجرتی جنگجوؤں کو بھرتی کر کے لیبیا کی سرزمین پر بھیجا جا چکا ہے۔ ان میں 18 برس سے کم عمر 350 بچے بھی ہیں۔ اس دوران تقریبا 6000 افراد اپنے معاہدوں کی مدت پوری ہونے اور مالی واجبات لینے کے بعد واپس شام لوٹ چکے ہیں۔