.

راکٹوں کے داغے جانے کے بعد اسرائیل نے غزہ میں فِشنگ زون بند کر دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیلی فوج نے اتوار کے روز ایک اعلان میں بتایا ہے کہ غزہ پٹی سے آتش گیر غبارے داغے جانے کے بعد اس نے غزہ میں فِشنگ زون بند کر کے مچھیروں کو سمندر میں کام کرنے سے روک دیا ہے۔

فوجی بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ اقدام غزہ پٹی سے اسرائیل کی جانب آتش گیر غباروں اور راکٹوں کے داغے جانے کے جواب میں کیا گیا ہے۔ دیگر کسی نوٹفکیشن کے جاری ہونے تک سمندری علاقے کی بندش جاری رہے گی۔

اسرائیل نے غزہ پٹی پر زمینی، سمندری اور فضائی حصار مسلط کیا ہوا ہے۔ غزہ پٹی کی آبادی بیس لاکھ نفوس پر مشتمل ہے۔

اس سے قبل اسرائیل نے بدھ کے روز مچھلی کے شکار کے لیے اجازت یافتہ رقبے کو 15 سمندری میل سے کم کر کے 8 سمندری میل کر دیا تھا۔ یہ اقدام مذکورہ آتش گیر غباروں کے داغے جانے کے بعد سامنے آیا تھا۔ اس نوعیت کے بعض غبارے جنوبی اسرائیل میں آگ بھڑکا دینے کا ذریعہ بنتے ہیں۔

اسرائیل میں فائر اینڈ ریسکیو سے متعلق اداروں نے بتایا ہے کہ صرف ہفتے کے روز فلسطینیوں کی جانب سے آتش گیر غباروں کے 19 حملے ریکارڈ کیے گئے۔

اسرائیلی فوج نے آج اتوار کو علی الصبح اعلان کیا کہ اس نے راکٹ حملوں کے جواب میں غزہ پٹی کو سلسلہ وار حملوں کا نشانہ بنایا ہے۔

اسرائیلی پولیس کے مطابق غزہ پٹی کے متوازی واقع شہر سدیروت کی پٹی پر ایک گھر کے نزدیک راکٹ آ کر گرا۔ اس کے نتیجے میں ایک شخص زخمی ہو گیا۔

اسرائیلی فوج نے واضح کیا کہ اس نے راکٹ شکن "آئرن ڈوم" سسٹم کے ذریعے دو دیگر راکٹوں کو فضا میں تباہ کر دیا۔

اس سے قبل ہفتے کی شام اسرائیلی فوج نے اعلان کیا تھا کہ اس نے غزہ پٹی سے آتش گیر غبارے داغے جانے کے جواب میں حماس تنظیم کے ٹھکانوں کو فضائی اور زمینی بم باری کا نشانہ بنایا۔