.

امارات سے تاریخی معاہدہ فلسطینیوں کے ساتھ امن کے فروغ‌ میں معاون ثابت ہو گا: نیتن یاھو

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاھو نے کہا ہے کہ متحدہ عرب امارات کے ساتھ طے پانے ولا تاریخی امن معاہدہ فلسطینیوں کے ساتھ حقیقی امن کو مضبوط کرنے اور امن مساعی کو آگے بڑھانے میں مدد دے گا۔

نیتن یاھو کے ترجمان اوفیر گینڈیلیمین نے وزیراعظم کے حوالے سے اپنے ٹویٹر اکاوئنٹ پر پوسٹ ایک بیان میں کہا کہ انہیں توقع ہے کہ امارات کے بعد سلطنت عمان اور بحرین بھی اسرائیل کے ساتھ تعلقات استوار کریں گے۔

نیتن یاھو نے مزید کہا کہ متحدہ عرب امارات کے ساتھ معاہدے کے تحت سنہ 1967ء کی جنگ میں قبضے میں لیے گئے بعض علاقوں سے دستبرداری سے اسرائیل کمزور نہیں ہو گا۔

اسرائیلی وزیر اعظم نے کہا کہ یہ معاہدہ 26 سالوں میں اسرائیل اور ایک عرب ملک کے مابین پہلا امن معاہدہ ہے جس میں یہ ذکر کیا گیا ہے کہ وہ امن اور استحکام کے اصولوں پر انحصار کرنے کے معاملے میں پہلے والے معاہدوں سے مختلف ہے۔

نیتن یاھو نے دوسرے عرب ممالک سے بھی اسرائیل سے دوستی کی توقع کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ معاہدہ ایک تاریخی تبدیلی ہے جو عرب دنیا کے ساتھ امن کو آگے بڑھانے اور بالآخر فلسطینیوں کے ساتھ حقیقی اور دیر امن کے فروغ میں مدد دے گا۔

متحدہ عرب امارات کے وزیر خارجہ الشیخ عبداللہ بن زاید نے دونوں فریقین کے مابین امن معاہدے کے اعلان کے بعد اسرائیلی وزیر خارجہ گبی اشکنازی کے ساتھ ٹیلیفون پر بات چیت کی ہے۔

جمعرات کے روز امریکا ، امارات اور اسرائیل کے مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ، اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو ، اور ابو ظبی کے ولی عہد الشیخ محمد بن زاید نے متحدہ عرب امارات اور اسرائیل کے مابین تعلقات کو معمول پر لانے پر اتفاق کیا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسے ایک تاریخ ساز معاہدہ قرار دیا ہے۔