.

ایران کی جانب سے امارات کو دھمکیاں قابل مذمت ہیں: خلیج تعاون کونسل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

خلیجی ریاستوں پر مشتمل علاقائی اتحاد خلیج تعاون کونسل [جی سی سی] کے جنرل سیکرٹری جنرل ڈاکٹر نائف فلاح مبارک الحجرف نے ایرانی صدر اور دیگر سرکاری حکام کی جانب سے متحدہ عرب امارات کو اسرائیل کے ساتھ امن معاہدے پر دھمکیاں دینے کی مذمت کی ہے۔

صدر روحانی نے ہفتے کے روز کہا تھا کہ یو اے ای نے اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کے لیے امن معاہدہ کرکے ایک بہت بڑی غلطی کا ارتکاب کیا ہے۔ انھوں نے یو اے ای کے اس اقدام کو غداری سے تعبیر کیا تھا۔

متحدہ عرب امارات کی سرکاری نیوز ایجنسی ’’وام‘‘ کے مطابق وزارت خارجہ نے ابوظبی میں متعیّن ایران کے ناظم الامور کو اتوار کے روز طلب کیا اور ان سے صدر حسن روحانی کی ایک ’’ناقابل قبول‘‘ تقریر پر احتجاج کیا۔

وام کے مطابق وزارت خارجہ نے سخت الفاظ پر مبنی احتجاجی مراسلہ ایران کے ناظم الامور کے حوالے کیا جس میں باور کرایا گیا تھا ایران اپنے ملک میں یو اے ای کے سفارتی مشن کا تحفظ کرے۔

ایرانی صدر نے یو اے ای کے اسرائیل کے ساتھ جمعرات کو امن معاہدے کے اعلان کے بعد اپنے پہلے ردعمل میں کہا تھا کہ ’’ انھیں (یو اے ای کو) یاد رکھنا چاہیے کہ انھوں نے بہت بڑی غلطی کی ہے۔ " حسن روحانی نے خطے میں اسرائیل کو محفوظ راستہ دینے کے حوالے امارات کو خبردار کیا۔

اماراتی وزارت خارجہ نے ایرانی صدر کی اس تقریر کو ’’ ناقابل قبول اور اشتعال انگیز‘‘ قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ ’’اس کے خلیجی عرب خطے کی سلامتی اور استحکام کے لیے سنگین مضمرات ہوں گے۔‘‘

متحدہ عرب امارات نے جنوری 2016 میں سعودی عرب اور ایران کے درمیان کشیدگی بڑھنے کے نتیجے میں ایران کے ساتھ اپنے تعلقات کو نچلی ترین سطح تک ڈائون گریڈ کر دیا تھا۔