بحرین: ہندو مورتیوں کو نقصان پہنچانے پر خاتون کے خلاف مقدمہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
1 منٹ read

بحرین کی وزارت داخلہ کے مطابق انٹرنیٹ پر جاری ہونے والی ایک وڈیو میں ہندو دیوتائوں کی مورتیوں کو نقصان پہنچانے والی خاتون کے خلاف کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔

منامہ پولیس کے مطابق دارالحکومت کے علاقے جفیر میں ایک 54 سالہ خاتون کی جانب سے دکان کو نقصان پہنچانے اور مذہبی مورتی کو توڑنے کی وڈیو سوشل میڈیا پر گردش میں آنے کے بعد ملزمہ کو طلب کیا گیا ہے۔

بحرین کی پبلک پراسیکیوشن ٹیم کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں بتایا گیا کہ خاتون نے مورتی کو توڑنے کا اعتراف کر لیا ہے اور اسے مذہبی جذبات کو مجروح کرنے اور دیگر جرائم کی چارج شیٹ دے دی گئی ہے۔

خاتون کا مقدمہ بحرین کی مقامی عدالت میں چلایا جائے گا۔ اس واقعہ کے بعد سوشل میڈیا پر مذمتی بیانات کا تانتا بندھ گیا تھا۔

بحرینی فرمانروا کے مشیر اور سابق وزیر خارجہ شیخ خالد الخلیفہ نے اپنے بیان میں کہا کہ خاتون کی حرکات ناقابل برداشت ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ "مذہبی علامات کی توڑ پھوڑ بحرین کی عوام کی فطرت نہیں ہے۔ یہ نفرت کا جرم ہے اور ہم اس کی مذمت کرتے ہیں۔ یہاں [بحرین میں]تمام ادیان اور فرقوں کے لوگ ہم آہنگی سے رہتے ہیں۔"

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں