.

رفیق حریری کے قتل کی ذمہ داری حزب اللہ پرعاید ہوتی ہے: سعد الحریری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لبنان کے سابق وزیر اعظم سعد حریری نے اپنے والد رفیق حریری کے قتل کی تحقیقات کے لیے قائم کردہ عالمی ٹریبونل کا فیصلہ سامنے آنے کے بعد کہا ہے رفیق حریری کے قتل کی ذمہ داری حزب اللہ پرعاید ہوتی ہے۔ الحدث ٹی وی کو ایک خصوصی انٹرویو میں انہوں‌ نے کہا کہ حزب اللہ ان کے والد کے قتل کی ذمہ دار ہے۔ سنہ 2005 رفیق حریری کو دن دیہاڑے بیروت میں قتل کیا گیا مگر حزب اللہ اور شامی حکومت نے اس اقدام کی مذمت نہیں کی۔

تاہم ان کا کہنا تھا کہ عدالت نے رفیق حریری کے خلاف شامی حکومت کو بھڑکانے کے معاملے میں قتل سے پہلے کے سیاسی ماحول کا جائزہ لیا۔ عدالت نے اشارہ کیا کہ قتل کا فیصلہ برسٹل ہوٹل میں لبنانی حزب اختلاف کے رہ نماؤں کے اجلاس کے بعد لیا گیا تھا جس میں رفیق حریری نے شرکت کی تھی۔ جہاں انہوں نے شام میں مداخلت کے خاتمے کا مطالبہ کیا۔ ان کا کہنا ہے کہ رفیق حریری کے قتل سے لبنان کا سیاسی چہرہ تبدیل کرنے کی کوشش کی گئی تھی۔

سعد حریری نے مزید کہا کہ رفیق حریری کے قتل کا بوچھ حزب اللہ کے کندھوں پر ہے۔ انہوں نے عالمی ٹریبونل کی جانب سے رفیق حریری کے قتل میں ماخوذ قرار دیے گئے حزب اللہ کے رکن سلیم عیاش کو عالمی عدالت کے حوالے کرنے کا مطالبہ کیا۔

نیدرلینڈز کے شہر ہیگ میں قائم بین الاقوامی خصوصی ٹرائبیونل برائے لبنان ( ایس ٹی ایل) نے14 فروری 2005ء کو تباہ کن بم دھماکے میں ماخوذ کیے گئے چار مدعاعلیہان میں سے صرف ایک مجرم قرار دیا ہے اور باقی تین کے بارے میں کہا ہے کہ انھوں نے دہشت گردی کے اس حملے میں صرف عمومی معاونت کی تھی۔

ٹرائبیونل نے منگل کے روز لبنان کے سابق وزیراعظم رفیق حریری اور دوسرے 21افراد کے بم دھماکے میں قتل کے واقعے کا تفصیلی فیصلہ سنایا ہے۔ہیگ میں آج عدالت کی کارروائی کے آغاز سے قبل چار اگست کو بیروت میں تباہ کن بم دھماکے میں مرنے والے افراد کی یاد میں ایک لمحے کی خاموشی اختیار کی گئی۔

عدالت میں ٹرک بم دھماکے میں مارے گئے افراد کے لواحقین بھی فیصلہ سنائے جانے کے وقت موجود تھے۔ ان میں مقتول رفیق الحریری کے بیٹے اور لبنان کے سابق وزیراعظم سعد الحریری بھی شامل تھے۔

اس بین الاقوامی ٹرائبیونل قبل ازیں حزب اللہ کے پانچ ارکان سلیم جمیل عیاش، حسین حسن عنیسی ، حسان حبیب مرعی ، اسد حسن صبرا اور مصطفیٰ امین بدرالدین کو اس مقدمے میں ماخوذ قرار دیا تھا۔ان میں سے اوّل الذکر چار افراد کے خلاف ان کی عدم موجودگی میں دہشت گردی کی کارروائی میں ملوّث ہونے کے الزام کی سماعت کی گئی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں