.

رفیق حریری قتل سے متعلق عالمی عدالت کے فیصلے پرعمل درآمد کرایا جائے: فرانس

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

فرانسیسی وزارت خارجہ نے بدھ کے روز کہا ہے کہ لبنان کے سابق وزیراعظم رفیق حریری کے قتل کی تحقیقات کے لیے قائم کردہ خصوصی ٹریبونل کے فیصلے پر مکمل عمل درآمد کیا جانا چاہیے۔

فرانسیسی وزیر مملکت برائے امور خارجہ ژان بپٹسٹ لی ماؤن آج جمعرات کو بیروت روانہ ہو رہے ہیں۔ ان کی بیروت روانگی سے قبل جاری کردہ بیان میں وزارت خارجہ کا کہنا تھا کہ عالمی ٹریبونل کے رفیق حریری قتل کیس سے متعلق فیصلے پر فوری عمل درآمد کیا جانا چاہیے۔ بیان میں کہا گیا ہےکہ وزیر مملکت برائے خارجہ امور کا دورہ صدر عمانوئل میکروں اور وزیر خارجہ ژاں یویس لی ڈریان کے دوروں کا تسلسل ہے۔

منگل کو لبنان کے لیے خصوصی ٹربیونل نے حزب اللہ کے ایک رکن کو لبنان کے سابق وزیر اعظم رفیق حریری کے قتل کے معاملے میں مجرم قرار دیا تھا۔

عدالت نے حریری کے قتل کے لیے حزب اللہ کے رکن سلیم عیاش کو ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے تین دیگر ملزمان کو ناکافی ثبوت کی بنیاد پر بری کر دیا۔

عدالت کا کہنا ہے کہ اس بم دھماکے میں ملوث افراد کی تعداد کا تعین کرنا ممکن نہیں ہے۔ یہ کہ ملزمان کا تعلق ایک منظم تنظیم سے ہے۔ یہ اس بات کا اشارہ ہے کہ رفیق حریری کی موت ایک سیاسی قتل تھا۔ کیونکہ حریری کے قتل کا مقصد لبنان کو غیر مستحکم کرنا تھا۔

رفیق حریری کو فروری 2005ء کو بیروت میں سڑک پر نصب بم دھماکے میں قتل کر دیا گیا تھا۔ اقوام متحدہ نے رفیق حریری قتل کیس کے ٹریبونل کے فیصلے کی تائید کرتے ہوئے اس پر عمل درآمد پر زور دیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں