.

عراق میں سماجی کارکنوں کے قتل کے واقعات پر امریکا کا اظہار تشویش

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا نے عراق میں نامعلوم مسلح افراد کے ہاتھوں منظم طریقے سے سماجی کارکنوں کے قتل کے واقعات پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ‌ کے مطابق جمعرات کے روز امریکی وزارت خارجہ کی طرف سے جاری ایک بیان میں کہا گیا تھا کہ بغداد اور البصرہ میں سول سوسائٹی کے کارکنوں‌ کی ہلاکت پر سخت مشوش ہے اور اس طرح کے واقعات کی روک تھام کے لیے بغداد حکومت سے سخت پالیسی اپنانے پر زور دیتا ہے۔

خیال رہے کہ بدھ کو بغداد اور بصرہ شہروں میں نامعلوم مسلح‌ افراد کے حملوں کے نتیجے میں کم سے کم پانچ سرکردہ سماجی کارکن ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے تھے۔ ہلاک اور زخمی ہونے والے کارکن ماضی میں حکومت کے خلاف اٹھنے والی تحریک میں پیش پیش رہے ہیں۔ اس لیے یہ شبہ ظاہر کیا جا رہا ہےکہ ان حملوں کے پیچھے ایرانی حمایت یافتہ قوتوں کا ہاتھ ہو سکتا ہے۔

امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان مورگن اورٹاگوس نے ایک بیان میں کہا ہم عراق کی حکومت سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ عراقیوں پر حملہ کرنے والے گروپوں ، جرائم پیشہ افراد اورمافیا کے احتساب کے لیے فوری اقدامات کرے جو پرامن احتجاج کرنے والوں کو جان سے مارنے کی مجرمانہ روش پر چل رہے ہیں۔

بصرہ میں‌ پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی طرف سے سیکیورٹی بڑھانے اور سڑکوں پر گشت کے باوجود سول سوسائٹی کے کارکنوں کی دن دیہاڑے ہلاکتوں پر عوام میں شدید غم وغصہ پاپا جا رہا ہے۔

جمعرات کے روز وزیر داخلہ عثمان الغانمی نے اعلیٰ سیکیورٹی حکام کے ہمراہ جرائم پیشہ عناصر کے حملوں سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا۔ انہوں نے سیکیورٹی اداروں کو سماجی کارکنوں‌ پر حملے کرنے والے عناصر کی نشاندہی کرنے اور ان کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی ہدایت کی۔