.

مصر میں کم سن ملازمہ پرتشدد پر عوام میں شدید غم وغصہ، قانون حرکت میں آ گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر میں ایک گھر میں گھریلو خادمہ کے طور پر کام کرنے والی ایک کم عمر بچی پر اس کے مالک اور مالکن کی طرف سے مبینہ تشدد کے واقعے پر عوام میں شدید غم وغصے کی لہر دوڑ گئی۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ‌ کے مطابق مصر میں امنیہ نامی ایک بچی پر اس کے مالکان کی طرف سے تشدد اور اسے جھلسانے کے واقعے کے بعد پولیس نے مالک اور اس کی بیوی سمیت متعدد افراد کو حراست میں لے کر ان سے پوچھ تاچھ شروع کر دی ہے۔

امنیہ پرتشدد کا انکشاف اس وقت ہوا جب اس کی تشدد زدہ حالت کی ایک تصویر سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی۔ تصویر جنگل کی آگ کی طرح پھیلی جس کے بعد پولیس اور قانون کو حرکت میں آنا پڑا۔ گھریلو تشدد کا یہ شرمناک واقعہ الجیزہ گورنری میں پیش آیا ہے۔

امینہ پر تشدد کے واقعے کے بعد مصری پراسیکیوٹر جنرل حمادہ الصاوی نے اس واقعے کا فوری نوٹس لیتے ہوئے مالک اور اس کی بیوی سمیت گھر کے دیگر افراد کو حراست میں لینے اوران سے تفتیش کا حکم دیا۔

پولیس کو بیان دیتے ہوئے مالک اور اس کی بیوی نے امینہ پر تشدد کے الزام سے انکار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ جھلسنے کا واقعہ امینہ کے اپنے ہاتھوں پیش آیا۔ اس کے ساتھ ساتھ انہوں‌ نےالٹا امینہ کے والد پرالزام عاید کیا ہے کہ اس نے اپنی بیٹی کو خود تشدد کا نشانہ بنایا ہے۔

دوسری طرف امینہ کے والد کا کہنا ہے کہ اس کی اپنی بیوی سے علاحدگی کے بعد بیٹی اس کے ساتھ چلی گئی تھی۔ مجھے یہ علم ہی نہیں کہ امینہ کسی گھر میں کام کرتی ہے۔ انہوں نے امینہ کے مالکان کی طرف سے بیٹی پر تشدد کے الزام کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے اس کی مکمل انکوائری کا مطالبہ کیا ہے۔ تاہم اس نے ساتھ ہی بیٹی کی ماں پر لا پرواہی برتنے اور کم عمر بچی کو گھریلو خادمہ کے طور پر کسی کے گھر میں بھیجنے پر تنقید کی۔