.

عراق: ناصریہ میں دھماکے کے باوجود مظاہرین دھرنے کے مقام پر جمع ہوئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

جنوبی عراق میں مظاہرین کی جانب سے اپنے مطالبات کے لیے آواز اٹھانے کا سلسلہ جاری ہے۔ ان میں سرفہرست سلسلہ وار ہلاکتوں کی تحقیقات ہیں جنہوں نے کئی سماجی کارکنان کو بالخصوص بصرہ میں اپنی لپیٹ میں لے لیا۔

جمعے کی شب ذی قار صوبے کے مرکز ناصریہ شہر کے وسط میں الحبوبی اسکوائر پر دھرنے کے ایک کیمپ میں دھماکا ہوا۔ اس کے باوجود مظاہرین کے جتھے دھرنے کے مقام پر پہنچتے رہے۔ یہ لوگ قتل اور دہشت پھیلانے کی کارروائیوں کی پر زور مذمت کر رہے تھے۔

دوسری جانب ذی قار صوبے کے گورنر ناظم الوائلی نے صوبے کی پولیس قیادت کو جمعے کی شب ہونے والے دھماکے کی فوری تحقیقات کی ہدایت جاری کی ہے۔ اسی طرح پولیس پر زور دیا گیا ہے کہ الحبوبی اسکوائر کے اطراف مزید سیکورٹی فورسز تعینات کی جائیں۔ ساتھ ہی یہ بھی کہا گیا ہے کہ مظاہرین اور شہریوں کی جانب سے سیکورٹی فورسز کے ساتھ تعاون کی ضرورت ہے اور ہر طرح کی مشکوک اور مشتبہ صورت حال کی اطلاع سیکورٹی فورسز کو دی جائے۔

ناصریہ میں سماجی کارکنان کو نشانہ بنانے اور ہلاک کرنے کی کارروائیوں کے خلاف گذشتہ روز مظاہرین نے سڑکوں پر آ کر اپنے غم و غصے کا اظہار کیا۔ اس موقع پر احتجاجیوں نے ایران نواز عراقی ملیشیاؤں کی پر زور مذمت کی۔ مشتعل مظاہرین نے بدر تنظیم اور حزب الدعوہ سمیت ایران کی ہمنوا دیگر جماعتوں کے دفاتر کو نذر آتش کیا اور سابق وزیر اعظم نوری المالکی کی تصاویر جلائیں۔

یاد رہے کہ ہلاکتوں کا حالیہ سلسلہ گذشتہ ہفتے جنوبی شہر بصرہ میں سماجی کارکن تحسين اسامہ کے قتل کے ساتھ شروع ہوا۔ اس کے بعد خاتون کارکن ریہام یعقوب کو موت کی نیند سلا دیا گیا۔ اگلی کارروائی میں فلاح الحسناوی نامی سماجی کارکن اور اس کی منگیتر پر قاتلانہ حملہ ہوا۔ حملے میں لڑکی ہلاک ہو گئی جب کہ الحسناوی سات گولیاں لگنے سے زخمی ہو گیا۔

عراق کے جنوب میں تشدد کی حالیہ لہر شروع ہونے کے بعد تین روز مسلسل سڑکوں پر مظاہرے ہوئے۔ اس دوران سیکورٹی فورسز نے مظاہرین پر براہ راست فائرنگ بھی کی جنہوں نے بصرہ کے گورنر کی رہائش گاہ پر پتھراؤ کیا اور متعدد مرکزی راستے بند کر دیے۔