.

مظاہرین کے قتل پر صدائے احتجاج بلند کرنے والے 14 ایرانی کارکن پابند سلاسل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کی ایک انقلاب عدالت نے کل ہفتے کے روز گذشتہ نومبر کے مظاہروں کے دوران پولیس کے ہاتھوں پرامن اور نہتے مظاہرین کے قتل عام کی مذمت کرنے والے 14 اصلاح پسند کارکنوں کو مختلف برسوں کے لیے جیل کی سزائیں سنائی ہیں۔

اصلاح پسندوں کے قریب سمجھی جانے والی نیوز ویب سائٹ "امتداد" کے مطابق صحافی مہدی محمودیان کو پانچ سال قید ، علی شکوری راد ، محمد حسین کروبی ، محسن ارمین ، قربان بہزادیان نجد ، صدیقہ اور صقامی ایک ایک سال قید کی سزا سنائی گئی۔

قابل ذکر بات یہ ہے کہ ان کارکنوں نے 77 سیاسی کارکنوں کے ساتھ ایک بیان پر دستخط کیے گئے جس میں سویلین اور غیر مسلح مظاہرین کے خلاف اندھا دھند فائرنگ، ان کے خلاف کریک‌ ڈائون، تشدد اور ان کے قتل کی مذمت کی گئی تھی۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا تھا کہ عدلیہ مظاہرین کے قاتلوں کو گرفتار کرے اور مظاہرین کے قتل کے واقعات کی تحقیقات کی جائیں تاہم ایرانی پولیس نے الٹا انہیں گرفتار کر لیا۔

قابل ذکر ہے کہ گذشتہ برس ایرانی حکومت کی طرف سے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں تین گنا اضافے کے خلاف عوام کی کثیر تعداد احتجاج کرتے ہوئے سڑکوں پر نکل آئی تھی۔ ایرانی پاسداران انقلاب اور دیگر حکومتی ملیشیائوں‌ے پولیس کی مدد سے مظاہرین کے خلاف وحشیانہ کریک‌ ڈاون کر کے دسیوں افراد کو موت کے گھاٹ اتار دیا تھا۔

ایرانی عہدیداروں نے ابھی تک ہلاک ہونے والوں کی باضابطہ تعداد کا اعلان نہیں کیا ہے لیکن "رائیٹرز" نے حکومت کے اندر موجود ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ یہ تعداد کم سے کم ایک ہزار پانچ سو افراد تک پہنچ چکی ہے جب کہ حزب اختلاف کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ ہلاک ہونے والے مظاہرین کی تعداد 5 ہزار سے تجاوز کر چکی ہے۔