.

سعودی عرب میں 'ایم اے ' پاس چائے فروش بے روزگار نوجوان کی کہانی کیا ہے؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی ہیومن ریسورس ڈویلپمنٹ فنڈ "ھدف" نے سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ایک ویڈیو کے بعد اس پر کارروائی کا فیصلہ کیا ہے۔ اس ویڈیو میں امریکا کی ایک یونیورسٹی سے ایم اے کی ڈگری حاصل کرنے والے نوجوان کو"کوئلہ چائے" فروخت کرتے دیکھا جاسکتا ہے۔

اس نوجوان نے ویڈیو میں کہا ہے کہ وہ ایک امریکی یونیورسٹی سے ماسٹر ڈگری حاصل کرنے کے باوجود نوکری تلاش نہیں کر سکا۔
ریسورس ڈویلپمنٹ فنڈ نے اس نوجوان سے رابطہ کیا اور اس سے اس کے مسائل پر گفتگو کرنے اور اس کے لیے ملازمت کا مناسب موقع تلاش کرنے میں مدد کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔

'ہدف' کے مطابق چائے فروش نوجوان کے سابقہ ریکارڈ سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ بنکاری، میڈیکل، سیاحت اور خوراک کے شعبوں میں کنکٹریکٹ پر کام کر چکا ہے۔ اس دوران ایک ملازمت میں اسے 8000 ریال ماہانہ تنخواہ ملتی رہی ہے۔ تاہم وہ ملازمت زیادہ عرصہ برقرار نہیں رہ سکی اور وہ بے روزگار ہوگیا۔

بے روزگار ایم اے پاس نوجوان عبداللطیف جرفان نے بتایا کہ اسے جتنی بھی ملازمتیں ملیں وہ سب دوران تعلیم تھیں اور ایم کی ڈگری لینے سے قبل ملی تھیں۔ شہزادہ سلطان انشورینس کمپنی میں اسے تین ماہ کام کا موقع ملا جہاں اسے ماہانہ آٹھ ہزار ریال تنخواہ دی جاتی تھی۔ اس کے علاوہ الراجحی بنک میں اس نے سات ماہ کام کیا۔

اس نے مزید کہا کہ جب میں اپنی اسکالرشپ کی تکمیل اور ایم اے کی ڈگری لے کر وطن واپس لوٹا تومجھے ایک بنک میں 3000 ریال میں کام کا موقع ملا۔ اس کے علاوہ ابھا کے ایک ہوٹل میں ملازمت شروع کی تو کرونا کی وبا پھیل گئی اور اس کی یہ نوکری بھی چلی گئی۔