.

ایران کی مشہور خاتون ایڈوکیٹ "نسرین ستودہ" کو بچانے کی پکار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران میں خاتون وکیل اور انسانی حقوق کی سرگرم کارکن نسرین ستودہ کی بھوک ہڑتال منگل کے روز 14 ویں روز میں داخل ہونے پر ان کی حالت بگڑ گئی ہے۔ ستودہ کے وکیل محمد مقیمی کے مطابق بھوک ہڑتال کے دو ہفتے پورے ہونے پر ان کی مؤکلہ کا وزن اور فشار خون بہت کم ہو گیا ہے جب کہ ان کی بلڈ شوگر صرف 44 رہ گئی ہے۔

مقیمی نے مزید بتایا کہ ستودہ کو ایرانی حکام کی جانب سے بلیک میل کیا جا رہا ہے۔ حکام نے ستودہ پر دباؤ ڈالنے کے لیے ان کی بیٹی مہراوہ خندان کے خلاف مقدمہ دائر کر دیا ہے۔

مقیمی نے دنیا بھر میں وکلاء اور انسانی حقوق کے کارکنان سے مطالبہ کیا کہ وہ اس بدترین کریک ڈاؤن کے خلاف احتجاج کریں جس کا نشانہ ستودہ کو بنایا جا رہا ہے۔

دو روز قبل ایران میں 44 ایڈوکیٹس نے نسرین ستودہ اور دیگر سیاسی قیدیوں سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ بھوک ہڑتال ختم کر دیں اور اپنی زندگیوں کو خطرے میں نہ ڈالیں۔ مذکورہ وکلاء نے ایک بیان میں یہ بھی مطالبہ کیا تھا کہ کرونا کی وبا کے بیچ سیاسی قیدیوں کو رہا کیا جائے۔

یاد رہے کہ نسرین ستودہ نے ایرانی جیلوں میں قیدیوں کے حالات کے خلاف احتجاج کے واسطے رواں ماہ 11 اگست کو بھوک ہڑتال شروع کرنے کا اعلان کیا تھا۔

ایران میں کرونا وائرس وسیع پیمانے پر پھیل گیا۔ اس دوران رپورٹوں میں بتایا گیا کہ سیاسی قیدیوں میں متعدد افراد اس مہلک وائرس سے متاثر ہوئے ہیں۔

نسرین ستودہ کے وکیل کے مطابق ان کی مؤکلہ نے ایران میں سیاسی قیدیوں کو درپیش غیر منصفانہ اور غیر قانونی حالات کے خلاف احتجاجا بھوک ہڑتال کا فیصلہ کیا۔ کرونا وائرس پھیلنے کے بعد مذکورہ قیدیوں کے حالات بدترین ہو چکے ہیں۔

ایران کی اس معروف خاتون وکیل کو جون 2018ء میں گرفتار کر کے بدنام زمانہ ایفین جیل منتقل کر دیا گیا۔ نسرین ستودہ پر ایرانی نظام کے خلاف پروپیگنڈے ، رہبر اعلی کی توہین اور جاسوسی کے الزامات ہیں۔