.

سعودی عرب نے بری گذرگاہوں سے شہریوں کو مملکت میں داخلے کی اجازت دے دی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کے ڈائریکٹوریٹ جنرل برائے پاسپورٹس نے پڑوسی ممالک میں موجود اپنے شہریوں، ان کے خاندان کے دیگر افراد جن میں ان کی بیویاں، شوہر، بیٹے اور بیٹیاں، ان کے ہمراہ گھروں میں کام کرنے والے ملازمین شامل ہیں کو بری گذرگاہوں سے براہ راست مملکت میں داخلے کی اجازت دے دی ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق جنرل ڈائریکٹوریٹس پاسپورٹس کے مطابق بیرون ملک سے واپس آنے والے افراد کو کرونا کی وبا کے پیش نظر طے کردہ 'ایس اوپیز' پر سختی کے ساتھ عمل درآمد کرنا ہو گا۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ بیرون ملک سے واپس آنے والے شہریوں کو تمام ضروری کوائف کے ذریعے یہ ثابت کرنا ہو گا کہ ان کے غیر سعودی اقارب ان کے ہمراہ سعودی عرب لوٹ رہے ہیں۔ انہیں جس گذرگاہ سے داخل ہونا ہے اس کی وضاحت کی جائے۔ اس حوالے سے حکومت کی طرف سے مقرر کردہ آن لائن پلیٹ فارم کا استعمال کیا جائے۔

بیرون ملک سے بری گذرگاہوں سے مملکت میں داخل ہونے والے 'الخفجی، الرقعی، البطحا اور شاہ فہد بریج میں سے کسی ایک کا انتخاب کر سکتے ہیں۔ پہلے مرحلے میں مذکورہ بری گذرگاہوں کو کھولا جائے گا جب کہ دوسرے مرحلے میں دیگر راہ داریاں کھولی جائیں گی۔ سعودی عرب میں داخلے کے وقت غیر سعودی باشندوں کو اپنی میڈیکل رپورٹ پیش کرنا ہوگی تاکہ ان کے کرونا سے محفوظ ہونے کو یقینی بنایا جا سکے۔ یہ رپورٹ سعودی عرب میں داخلے سے 48 گھنٹے سے زیادہ پرانی نہیں ہونی چاہیے۔