.

غزہ: پراسرار بم دھماکے میں جہادِ اسلامی کے چار کارکن جاں بحق

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

غزہ میں فلسطینی مزاحمتی تنظیم جہادِ اسلامی کے چار ارکان بم کے ایک پُراسرار دھماکے میں جاں بحق ہوگئے ہیں۔

اس فلسطینی تنظیم نے منگل کے روز ایک بیان میں کہا ہے کہ ’’ چاروں شہداء اپنا فرض ادا کرتے ہوئے چل بسے ہیں۔‘‘اس نے مزید کہا ہے کہ بم کے حادثاتی طور پر پھٹنے سے جاں بحق ہونے والوں میں بیالیس سالہ ایاد جماس الجدی بھی شامل ہیں۔وہ اس تنظیم کے میزائل سازی کے یونٹ کے کمانڈر تھے۔

عینی شاہدین اور فلسطین کے سکیورٹی ذرائع کے مطابق یہ چاروں جنگجو ایک بم تیار کررہے تھے لیکن وہ قبل از وقت خام حالت میں پھٹ گیا ہے۔

واضح رہے کہ فلسطینی جنگجوؤں نے حال ہی میں آتش گیر مواد کو غباروں کے ساتھ باندھ کر اسرائیلی علاقوں کی جانب چھوڑا ہے۔ان غبارہ حملوں کے نتیجے میں اسرائیل میں قدرتی جنگلات اور زرعی زمینوں میں چار سو سے زیادہ مقامات پر آگ لگی ہے۔

اسرائیل کے لڑاکا طیاروں نے ان غبارہ حملوں کے ردعمل میں غزہ پر فضائی حملے کیے ہیں۔اس کے علاوہ اس نے غزہ سے تعلق رکھنے والے مچھیروں پر سمندر میں مچھلیوں کے شکار پر پابندی عاید کردی ہے اور اشیاء کی حمل ونقل کے لیے استعمال ہونے والی غزہ کے ساتھ واقع سرحدی گذرگاہ کو بند کردیا ہے۔اس کے نتیجے میں فلسطینی علاقے کا واحد پاور پلانٹ ایندھن کی رسد ختم ہونے کے بعد بند ہوچکا ہے۔

غزہ کی حکمران فلسطینی تنظیم حماس نے بارڈر کراسنگ کی بندش کو ’’انسانیت مخالف جرم‘‘ قرار دیا ہے۔اس نے عالمی برادری اور خطے میں فیصلہ سازوں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنی خاموشی توڑیں اور غزہ کا محاصرہ ختم کرائیں۔

فلسطینی مہاجرین کے امور کی ذمے دار اقوام متحدہ کی ایجنسی اُنروا نے ایک بیان میں کہا ہے کہ غزہ کے پاور پلانٹ کی بندش سے بیس لاکھ کی آبادی والے اس علاقے میں تباہ کن اثرات مرتب ہوں گے۔

اس کا کہنا ہے کہ پاور پلانٹ کی بندش سے اب دن میں صرف دو سے تین گھنٹے بجلی مہیا کی جارہی ہے۔اس سے غزہ کے مکینوں کی زندگیوں پر تحفظِ صحت کے حوالے سے منفی اثرات مرتب ہوں گے۔