.

ترکی نے حماس کے ارکان کو پاسپورٹس جاری کردیے: رپورٹ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترکی نے استنبول میں مقیم فلسطین کی اسلامی تحریک مزاحمت (حماس) کے دس بارہ ارکان کو پاسپورٹس جاری کردیے ہیں۔انقرہ میں اسرائیلی سفارت خانے کے ناظم الامور نے بدھ کے روز یہ دعویٰ کیا ہے۔انھوں نے اس اقدام کو بہت ہی ’’غیردوستانہ‘‘ قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ اسرائیلی حکومت ترک حکام کے ساتھ یہ معاملہ اٹھائے گی۔

ترک صدر رجب طیب ایردوآن سے اسی ہفتے استنبول میں حماس کے رہ نما اسماعیل ہنیہ نے ملاقات کی ہے اور اس کے بعد حماس کے ارکان کو ترک پاسپورٹس جاری کیے گئے ہیں۔

اسرائیلی سفارت خانے کے ناظم الامور روئے گیلاڈ نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کے ملک نے گذشتہ سال ترکی کو بتا دیا تھا کہ حماس استنبول سے دہشت گردی سے متعلق کارروائیوں کو منظم کررہی ہے لیکن ترکی نے اس اطلاع کے بعد کوئی کارروائی نہیں کی تھی۔

مسٹر گیلاد نے دعویٰ کیا ہے کہ ’’اسرائیل کے پاس ترکی کی جانب سے حماس کے ارکان کو پاسپورٹس اور شناختی کارڈ جاری کرنے کے ثبوت موجود ہیں۔ان میں سے بعض کو شناختی دستاویزات پہلے ہی جاری کی جاچکی ہیں اور بعض پر ابھی دفتری کارروائی جاری ہے لیکن ہم قریباً ایک درجن پاسپورٹس کے اجراء کی بات کررہے ہیں۔‘‘

انھوں نے کہا کہ ’’ ہمارے پاس ایک دستاویز موجود ہے اور ہم اس کو حکومت کو پیش کریں گے۔سابقہ تجربے کی بنیاد پر ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ ہم نے حکومت کو بہتر شواہد پر مبنی ایک ’پورٹ فولیو‘ پیش کیا تھا لیکن ہمیں اس کا کوئی جواب نہیں ملا تھا۔ اب بھی میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ مجھے کوئی زیادہ امید نہیں کہ اس مرتبہ بھی کوئی جواب دیا جائے گا۔‘‘

ترکی کی وزارت خارجہ نے فوری طور پر اسرائیلی سفارت کار کے اس دعوے پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔

ترک صدر رجب طیب ایردوآن نے گذشتہ ہفتے کے روز حماس کے سربراہ اسماعیل ہنیہ اور دوسرے عہدے داروں سے استنبول میں ملاقات کی تھی۔یہ اس سال میں ان کے درمیان دوسری ملاقات تھی۔اس پر امریکا نے سخت اعتراض کیا ہے اور کہا ہے کہ ترک صدر کے ملاقاتیوں میں ایک ایسا شخص بھی شامل تھا جو دہشت گردی کے حملوں اور اغوا کی وارداتوں میں ملوّث ہے۔

انقرہ نے اسرائیل کی اس تنقید کو مسترد کردیا ہے۔واضح رہے کہ امریکا ، اسرائیل اور یورپی یونین نے حماس کو ایک دہشت گرد تنظیم قرار دے رکھا ہے جبکہ ترکی کا کہنا ہے کہ حماس ایک قانونی سیاسی تحریک ہے اور فلسطینیوں نے جمہوری طریقے سے اس کو منتخب کیا تھا۔ حماس 2007ء سے غزہ کی حکمراں چلی آرہی ہے۔

اسرائیلی ناظم الامور نے دعویٰ کیا ہے کہ ترکی سے شناختی دستاویزات اور پاسپورٹس حاصل کرنے والے حماس کے ارکان استنبول سے دہشت گردی کو منظم کررہے ہیں اور اس کے لیے رقوم مہیا کررہے ہیں جبکہ ترکی ان کے اس دعوے کی تردید کرچکا ہے۔

مسٹر گیلاد کا کہنا ہے کہ حماس کے بہت سے ارکان ترکی اور اسرائیل کے درمیان 2011ء میں طے شدہ ایک ڈیل کے تحت رہائی پانے کے بعد استنبول میں آ بسے تھے۔اس ڈیل کے تحت اسرائیل نے اپنے ایک فوجی کے بدلے میں ایک ہزار سے زیادہ فلسطینی قیدیوں کو اپنی جیلوں سے رہا کیا تھا۔