.

حزب اللہ کا ڈیتھ اسکواڈ "یونٹ 121" قتل اور ہلاکتوں کی متعدد کارروائیوں کا ذمے دار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

بین الاقوامی عدالت کی جانب سے لبنان کے سابق وزیر اعظم رفیق حریری کے قتل کے کیس کا فیصلہ صادر ہوئے ایک ہفتہ گزر چکا ہے۔ عدالت نے حزب اللہ کے 56 سالہ رکن سلیم جمیل عیاش کو حریری کے قتل میں مجرم قرار دیا جب کہ حزب اللہ کے 3 دیگر ارکان کو ناکافی شواہد کے سبب بری کر دیا۔

امریکا، یورپ اور مشرق وسطی کے ممالک کے سیکورٹی ذمے داران نے ایران نواز لبنانی تنظیم حزب اللہ کے "ڈیتھ اسکواڈ" کی جانب سے قتل کی کارروائیوں کا انکشاف کیا ہے۔ امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ نے بدھ کے روز اپنی رپورٹ میں بتایا کہ مذکورہ اسکواڈ سیاسی اور سیکورٹی شخصیات کے علاوہ صحافیوں کی زندگیاں ختم کرنے کی کارروائیوں میں بھی ملوث رہا۔

ان سیکورٹی ذمے داران نے واضح کیا کہ حریری قتل کیس کی تحقیقات کے دوران اکٹھا کی جانے والے تمام اعداد و شمار اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ حزب اللہ کے زیر انتظام "یونٹ 121" کے نام سے ایک ڈیتھ اسکواڈ ہے جو تنظیم کے سربراہ حسن نصر اللہ کے احکامات پر عمل پیرا ہوتا ہے۔ گذشتہ برسوں کے دوران اس یونٹ نے کار بم دھماکوں کے ذریعے کئی شخصیات کو سلسلہ وار نشانہ بنایا۔

امریکی اخبار سے بات چیت کرنے والے ایک سیکورٹی ذمے دار کے مطابق یونٹ 121 میں درجنوں سرگرم کارکنان شامل ہیں جو حزب اللہ کی بقیہ سرگرمیوں سے علاحدہ رہتے ہوئے کام کرتے ہیں۔ انہیں حسن نصر اللہ کی جانب سے براہ راست احکامات موصول ہوتے ہیں۔ ذمے دار نے مزید بتایا کہ اس چھوٹے یونٹ میں شامل ارکان میں حزب اللہ کا کمانڈر مصطفی بدر الدین بھی تھا جو 2016ء میں شام میں ہلاک ہو گیا تھا۔ بدر الدین کا نام بھی رفیق حریری کی ہلاکت کے منصوبے میں ماسٹر مائنڈ کے طور پر سامنے آیا تھا۔

ذمے دار نے چار شخصیات کے ناموں کا انکشاف کیا جن کو یونٹ 121 (ڈیتھ اسکواڈ) نے نشانہ بنایا۔ یہ شخصیات لبنان کی داخلہ سیکورٹی کا افسر وسام عید (جو رفیق حریری قتل کی تحقیقات کر رہا تھا)، وسام الحسن (لبنان میں داخلہ سیکورٹی فورس کے جنرل ڈائریکٹریٹ میں شعبہ معلومات کا سربراہ اور رفیق حریری کی سیکورٹی کا ذمے دار)، لبنانی فوج کا میجر جنرل فرانسوا الحاج اور سابق وزیر اور ماہر معاشیات محمد شطح ہیں۔ ان تمام افراد پر کار بم دھماکوں کے ذریعے حملہ کیا گیا۔

اس حوالے سے اخبار کو انٹرویو دیتے ہوئے لبنان کی داخلہ سیکورٹی فورسز کے سابق ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل اشرف ریفی نے بتایا کہ اس طرح کے گروپ حزب اللہ میں موجود ہیں اور سلیم عیاش ان گروپوں کا حصہ رہا۔

اخبار نے امریکی ایف بی آئی میں انسداد دہشت گردی سے متعلق سابق تجزیہ کار اور حزب اللہ کی دہشت گرد کارروائیوں کے بارے میں ایک کتاب کے مؤلف میتھیو لیویٹ کے حوالے سے بتایا کہ حزب اللہ کو شخصیات ہلاک کرنے اور بموں کی تیاری کے میدان میں وسیع تجربہ حاصل ہے۔

میتھیو نے واضح کیا کہ حزب اللہ منفرد مشنوں کے لیے گروپس یا سیلز کو مخصوص کرتی ہے۔

مشرق وسطی میں امریکی CIA کے سابق افسر روبرٹ بائر کے مطابق کوئی بھی شخص جس نے بیروت کی بندرگاہ پر دھماکے کا الزام حزب اللہ پر عائد کیا، وہ تنظیم کا نشانہ بن سکتا ہے۔

یہ رپورٹ چند روز قبل جرمن جریدے شپیگل میں ایک تحقیقاتی رپورٹ شائع ہونے کے بعد سامنے آئی ہے۔ مذکورہ رپورٹ میں "منظم جرائم اور بدعنوانی کے انسداد کی تنظیم" کے ساتھ دیگر کئی ادارے شریک رہے۔ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا تھا کہ بیروت کی بندرگاہ پر کئی ٹن امونیم نائٹریٹ لانے والے جہاز "روسوس" کے مالک اور تنزانیہ کے ایک بین کے درمیان تعلقات ہیں۔ اس بینک پر الزام ہے کہ اس نے حزب اللہ سے متعلق منی لانڈرنگ کی کارروائیوں پر پردہ ڈالا تھا۔