سعودی عرب کے جنوبی علاقوں کے روایتی ملبوسات سے مزین گڑیائیں عوامی توجہ کا مرکز

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

سعودی عرب کی ایک خاتون آرٹسٹ اور بچوں کے لیے گڑیاوں کے کھلونے تیار کرنے والی عایشہ عبداللہ نے مملکت کے جنوبی علاقوں کے روایتی عروسی ملبوسات سے مزین ایسی گڑیائیں تیار کی ہیں جو ہر خاص وعام کی توجہ کا مرکز بن گئی ہی۔ عائشہ عبداللہ المعروف 'ام عبداللہ' کا کہنا ہے کہ جنوبی سعودی عرب کے روایتی ملبوسات میں تیار کی گئی گڑیاوں کے ذریعے انہوں نے نئی نسل کو اپنی روایات کےساتھ جڑے رہنے کی ترغیب دینے کی کوشش کی ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ سے بات کرتے ہوئے امم عبداللہ نے کہا کہ اس نے اپنی دکان کے لیے تیار کردہ گڑیائوں کو جنوبی اور جنوب مغربی سعودی عرب کے روایتی ملبوسات کے مطابق

تیار کیا ہے۔ ان کی گڑیاں ساحلی علاقوں، لتھامی، الجبلی، اور جازان گورنری کے دیگر روایتی ملبوسات سے مزین کی گئی ہیں۔

ام عبداللہ کا کہنا ہے کہ بچپن ہی سے اسے گڑیوں سے کھیلنے کا شوق تھا۔ وہ اپنی گڑیوں کو عروسی ملبوسات میں تیار کرتیں۔ اب یہ شوق ایک پیشے میں بدل چکا ہے اور وہ اس شوق کے ذریعے سعودی عرب کے روایتی ملبوسات کے بارے میں عوام کو مطلع کرنے کے ساتھ ان کی ترغیب دینے کی کوشش کرتی ہوں۔

اس نے بتایا کہ اس کی گڑیاوں میں زیادہ تر کو شادی بیاہ کے ملبوسات کے ماڈل سے مزین کیا جاتا ہے۔ شادی پر پہنا جانے والا ایک پہناوا مقامی سطح پر 'المیل' کہلاتا ہے جسے لڑکی شادی کے دوسرے روز زیب تن کرتی ہے۔ اس کے علاوہ دیگر روایتی ملبوسات میں العضیہ، السحلہ اور پہاڑی علاقوں میں استعمال ہونے والے ملبوسات سے گڑیائوں کو مزین کیا جاتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں