.

احتجاج روکنے کے لیے لیبیا کی قومی وفاق ملیشیا کے چھاپے، فائرنگ، متعدد کارکن اغوا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لیبیا میں قومی وفاق حکومت کے خلاف مختلف شہروں میں جاری احتجاجی مظاہروں کے بعد وفاق حکومت کی وفادار ملیشیائیں حرکت میں آگئی ہیں اور انہوں‌ نے احتجاج روکنے کے لیے مظاہرین کے گھروں پر چھاپہ مار کارروائیوں کے دوران درجنوں افراد کو اغوا کر لیا ہے۔

العربیہ چینل کے نامہ نگار کے مطابق کل بدھ کے روز شہریوں کی بڑی تعداد کرفیو توڑ کر سڑکوں‌ پر حکومت کے خلاف مظاہروں میں شریک ہوئی۔ مظاہرین قومی وفاق حکومت کے سربراہ فائز السراج کی برطرفی کا مطالبہ کر رہے تھے۔

ادھر وفاق حکومت کی وفادار ملیشیا نے گذشتہ روز مظاہرین کو منتشر کرنےکے لیے چھاپے مارے اور کئی افراد کو گرفتار کرنے کے بعد نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا گیا ہے۔

عینی شاہدین نے بتایا کہ قومی وفاق کی وفادار ملیشیا نے دارالحکومت طرابلس میں میدان شہدا کا محاصرہ کیا اور وہاں پر حکومت مخالف مظاہرین پر براہ راست فائرنگ کی جس کے نتیجے میں متعدد مظاہرین زخمی ہوئے جب کہ کئی افراد کو اغوا کر لیا گیا۔

العربیہ کے نامہ نگار نے بتایا کہ مظاہرین نے اقوام متحدہ کے ہائی کمیشن سے قومی وفاق حکومت کی وفادار ملیشیا کے حملوں سے تحفظ دلانے کے لیے مداخلت کی اپیل کی ہے۔

لیبیا کے المرصد اخبار کے ٹویٹر اکاونٹ پر جاری ایک خبر میں کہا گیا ہے کہ دارالحکومت طرابلس میں میدان شہدا اور دیگر کئی شاہراوں پر ہونے والے احتجاج کے دوران حکومت نواز عناصر نے اندھا دھند فائرنگ کی۔

درایں اثنا کل بدھ کے روز انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے طرابلس میں حکومت نواز عسکریت پسندوں کے ہاتھوں مظاہرین پر ہونے والے حملوں کی فوری تحقیقات کا مطالبہ کیاگیا ہے۔ ایمنسٹی نے احتجاج کے دوران گرفتار ہونے والے تمام کارکنوں کی فوری رہائی کی بھی اپیل کی ہے۔ انسانی حقوق کی عالمی تنظیم کا کہنا ہے کہ طرابلس سے کم سے کم چھ سرکردہ احتجاجی لیڈروں کو اغوا کر لیا گیا ہے۔

دارالحکومت طرابلس میں ہونے والے مظاہروں کے ساتھ یکجہتی کے لیے ملک کے جنوبی شہر اوباری میں بھی مظاہرے کیے گئے۔ ادھر لیبیا کی قومی وفاق احتجاج پر قابو پانے کے لیے کرونا کی آڑ میں چار روز کے لیے چوبیس گھںٹے کا کرفیو لگا دیا گیا ہے۔ اس سے قبل حکومت کی طرف سے کرفیو کا دورانیہ رات نو سے صبح چھ بجے تک تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں