.

سعودی عرب: ریتلے صحرا کے وسط میں ایشیا کی سب سے بڑی ریزرو کی وجہ شہرت کیا ہے؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب میں واقع صحرائی سیرگاہوں میں ایشیا کے سب سے بڑے ریتلے صحرا کے وسط میں واقع 'ریزرو' کو کئی حوالوں سے اہمیت کا حامل سمجھا جاتا ہے۔ ربع الخالی کے مغربی کنارے میں واقع یہ ریزرو 12 ہزار 787 مربع کلو میٹر پر پھیلی ہوئی ہے۔


'عروق بنی معارض' نامی یہ ریزرو جنگی حیات کا اہم مسکن سمجھی جاتی ہے جہاں پر انواع و اقسام کے پرندے اور دیگر جنگلی جاندار موجود ہیں۔ اسے زمین کے صحرائی علاقوں میں ایک شاندار مقام قرار دیا جاتا ہے۔


حرف کا سائز

ایک سعودی ریزرو ، خالی کوارٹر کے مغربی کنارے پر ، ایشیاء کے واحد سینڈی صحرا کے وسط میں ، اور 12،787 مربع کلومیٹر کے رقبے پر ، زمین پر ریت کے سب سے بڑے سمندر پر واقع ہے۔

سعودی وائلڈ لائف اتھارٹی کے سربراہ محمد قربان نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو بتایا کہ عروق بنی معارض ریزرو میں لمبے لمبے لمبے ریت کے ٹیلے ہیں۔ شاید یہ صحرا دنیا میں سب سے بڑا صحرائی خطہ تصور کیا جاتا ہے۔ اس میں وقفے وقفے سے چونا پتھر، پہاڑ کے جنوبی سرے میں پودوں کی وادیاں ، بجری کے میدانی علاقے اور ریت کے ٹیلوں کے درمیان بنائے گئے راستے موجود ہیں۔

انہوں نے کہا بنی معارض ریزرو آخری جگہ ہے جہاں البراری کے مقام پر عربی گائے کو آخری بار دیکھا گیا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ اس ریزرو کو ایک بار پھر جنگی حیات کا بہترین اور محفوظ مقام بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ سعودی وائلڈ لائف اتھارٹی ، (نیشنل سینٹر برائے وائلڈ لائف ڈویلپمنٹ) کے توسط سے ، محفوظ علاقوں کو موثر نظم و نسق اور بہتر کارکردگی کے لحاظ سے اعلی سطح پر کامیابی حاصل کی ہے اور اہداف پورے کیے ہیں۔ اس ریزرو کو عالمی سطح پر محفوظ علاقوں کی صف میں شامل کیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں