.

پومپیو کا دورہ :کیا امریکا یا عربوں کا یروشلیم کے بارے میں مؤقف تبدیل ہوگیا؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو اور دوسرے عہدے داروں کی عرب لیڈروں سے حالیہ ملاقاتوں کے بعد امریکا کے مقبوضہ بیت المقدس (یروشلیم) کے بارے میں مؤقف میں کوئی تبدیلی رو نما نہیں ہوئی ہے۔وہ اس کو بدستور اسرائیل کا غیر منقسم دارالحکومت سمجھتا ہے اور اس کی حمایت کرتا ہے جبکہ اس کے عرب اتحادیوں نے بھی اپنے اس مؤقف کا اعادہ کیا ہے کہ مشرقی القدس مستقبل میں قائم ہونے والی آزاد فلسطینی ریاست کا دارالحکومت ہونا چاہیے۔

امریکی محکمہ خارجہ کے ایک ترجمان کا کہنا ہے کہ ’’ ٹرمپ انتظامیہ کے یروشلیم (مقبوضہ بیت المقدس) کے بارے میں مؤقف میں کوئی تبدیلی رونما نہیں ہوئی ہے۔‘‘ترجمان سے یہ پوچھا گیا تھا کہ کیا اب ٹرمپ انتظامیہ اپنے مشرقِ اوسط امن منصوبے میں کوئی ترمیم کرے گی اور مشرقی القدس کو مستقبل میں قائم ہونے والی آزاد فلسطینی ریاست کے دارالحکومت کے طور پر اس منصوبے میں شامل کرے گی۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پیش کردہ امن منصوبے میں اسرائیلی فلسطینی تنازع کے دو ریاستی حل کی تو حمایت کی گئی ہے لیکن اس میں ’’متحدہ‘‘ یروشلیم کو اسرائیل کا دارالحکومت تجویز کیا گیا ہے بلکہ تسلیم کیا گیا ہے اور مستقبل میں قائم ہونے والی فلسطینی ریاست کا دارالحکومت یروشلیم کے مشرق میں واقع نواحی علاقے میں تجویزکیا گیا ہے۔

اس منصوبے کے مطابق فلسطینیوں کا مشرقی القدس کے قدیم شہر پر کوئی کنٹرول نہیں ہوگا۔اسی شہرِ کلاں میں مسلمانوں کا تیسرا مقدس مقام مسجد الاقصیٰ اور عیسائیوں کا مقدس چرچ ہولی سپلیشر واقع ہیں۔ فلسطینی مشرقی القدس ہی کو اپنا دارالحکومت بناناچاہتے ہیں۔

امریکا کے سابق سفیر ڈینس راس کے مطابق سابق ہر امریکی انتظامیہ کا یہ مؤقف رہا ہے کہ یروشلیم کو کبھی تقسیم نہیں کیا جانا چاہیے لیکن اس شہر کی سیاسی حیثیت کیا ہونی چاہیے،اس کا تعیّن فریقین کے درمیان مذاکرات کے ذریعے کیا جانا چاہیے۔

صدر ٹرمپ کے پیش رو صدر براک اوباما نے 2008ء میں ایک تقریر میں کہا تھا کہ ’’یروشلیم اسرائیل کا دارالحکومت رہے گا اور اس کو غیرمنقسم رہنا چاہیے۔‘‘

فلسطینی ، عرب اور دوسرے عالمی لیڈروں کا یہ دیرینہ مؤقف ہے کہ کسی بھی امن معاہدے کی صورت میں اسرائیل کو 1967ء کی جنگ میں قبضے میں لیے گئے تمام فلسطینی علاقوں کو خالی کرنا ہوگا۔اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد نمبر 242 میں بھی یہی بات کہی گئی ہے۔

اسرائیل نے قبضے میں لیے گئے جن علاقوں کو ضم کررکھا ہے،ان میں مشرقی القدس بھی شامل ہے۔اس وقت شہر کے اس حصے میں تین لاکھ 60 ہزار سے زیادہ فلسطینی رہ رہے ہیں۔

متحدہ عرب امارات اور اسرائیل کے درمیان 13 اگست کو تاریخی امن معاہدے کے اعلان کے بعد بعض عرب ممالک نے ایک مرتبہ پھر مقبوضہ بیت المقدس سے متعلق اپنے دیرینہ مؤقف کا اعادہ کیا ہے۔بحرین اور سعودی عرب نے تنازع فلسطین کے حل کے لیے عرب امن اقدام کی حمایت کا اظہارکیا ہے۔اس امن منصوبے میں یہ کہا گیا تھا کہ اسرائیل کے ساتھ اسی صورت میں معمول کے تعلقات استوار کیے جائیں گے جب مشرقی القدس دارالحکومت کے ساتھ آزاد فلسطینی ریاست حقیقت کا روپ دھار لے گی۔

امریکی وزیرخارجہ مائیک پومپیو سے بدھ کو منامہ میں ملاقات میں بحرین کے شاہ حمد بن عیسیٰ آل خلیفہ نے اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان امن عمل کی بحالی پر زوردیا تھا جس کے نتیجے میں مشرقی القدس دارالحکومت کے ساتھ ایک آزاد اور خودمختار فلسطینی ریاست کے قیام کی راہ ہو۔

سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان آل سعود کا کہنا ہے کہ مملکت عرب امن اقدام کے لیے پُرعزم ہے۔سعودی عرب کے سابق انٹیلی جنس چیف شہزادہ ترکی الفیصل کا کہنا تھا کہ ’’ان کے ملک نے اسرائیل اور عربوں کے درمیان امن کی ایک قیمت مقرر کردی ہے۔‘‘

انھوں نے اس کی وضاحت اپنے ایک مضمون میں کی ہے۔وہ اخبار الشرق الاوسط میں شائع شدہ اس مضمون میں لکھتے ہیں:’’ یہ قیمت مرحوم شاہ عبداللہ کے پیش کردہ امن اقدام کے مطابق ایک خود مختار فلسطینی کا قیام ہے جس کا دارالحکومت یروشلیم ہو۔‘‘

واضح رہے کہ عرب امن اقدام 2002ء میں تب سعودی ولی عہد شہزادہ عبداللہ بن عبدالعزیزآل سعود نے عرب لیگ کے سربراہ اجلاس میں پیش کیا تھا۔تب یو اے ای ، مصر، عُمان ، بحرین اور سوڈان نے اس امن منصوبے کی بھرپور حمایت کا اظہار کیا تھا اور آج بھی بیشتر عرب ممالک اسرائیل کے ساتھ معمول کے سیاسی اور سفارتی تعلقات استوار کرنے کے لیے اسی امن منصوبے پر عمل درآمد کی وکالت کررہے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں