.

ترکی قرضوں کی واپسی کے لیے ہوابازی کا سیکٹر اور اسٹاک ایکسچینج قطر کو فروخت کرے گا ؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی ویب سائٹ Al-Monitor کے مطابق ترکی میں سرکاری اور نجی دونوں سیکٹروں پر مسلط بھاری بیرونی قرضوں کے سبب اس بات کا آپشن بڑھتا جا رہا ہے کہ قرض دہندگان کو اثاثوں کی ڈیلوں کی پیش کش کی جائے۔ اس پیش کش میں کمپنیوں کے حصص اور ریئل اسٹیٹ کے سیکٹر میں قیمتی جائیدادیں شامل ہیں۔

ترکی کی کرنسی میں حالیہ گراوٹ کے نتیجے میں رواں ماہ کے ابتدائی دو ہفتوں کے دوران امریکی ڈالر کی قیمت میں تقریبا 11% کا اضافہ ہوا۔ اس موقاع پر ترکی کے مرکزی بینک نے کرنسی کی گراوٹ کے علاج کے لیے شرح سود بڑھانے کے بجائے 20 اگست کو فیصلہ کیا کہ بینکوں کو فراہم کی جانے والی سیالیت پر قیوں کا سلسلہ جاری رہے گا۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ مرکزی بینک نے معاملے کو بینکوں پر چھوڑ دیا۔ اس کے سبب تمام بینک غیر ملکی کرنسی فروخت کرنے پر مجبور ہو گئے تا کہ اپنی ضرورت کے مطابق سیالیت میسر آ سکے۔

ترکی کے مرکزی بینک کے اعداد و شمار کے مطابق 12 ماہ کے دوران بیرونی قرضے کا حجم 171.4 ارب ڈالر تک پہنچ گیا۔ یہ ترکی کے بیرونی قرضوں کے مجموعی حجم 430 ارب ڈالر کا تقریبا 40% اور ملک ی مجموعی مقامی پیداوار کا تقریبا 60% بنتا ہے۔ امریکی ویب سائٹ کے مطابق رواں سال توقع ہے کہ ترکی کی مجموعی مقامی پیداوار کم ہو کر 700 ارب ڈالر کے لگ بھگ رہے گی۔

اس مشکل صورت حال سے نمٹنے کا بظاہر ایک حل قرض دہندگان کو اثاثوں کی ڈیل کی پیش کش کرنا ہے۔ ان میں کمپنیوں کے حصص اور بالخصوص استنبول میں قیمتی جائیدادیں شامل ہیں۔

جن کمپنیوں کے اثاثے پیش کیے جا سکتے ہیں ان میں ترکی کی قومی فضائی کمپنی اور استنبول مالیاتی مرکز شامل ہیں۔ یہ دونوں اس وقت ترکی کے ویلتھ فنڈ کے پاس ہیں۔ اس فنڈ پر صدر رجب طیب ایردوآن اور ان کے داماد بیرات البیرق کا کنٹرول ہے۔

نجی سیکٹر میں استنبول کے نئے ہوائی اڈے کے چلانے والے ذرائع کو توقع ہے کہ قرضوں کی ادائیگی کے لیے مالیاتی مسائل کے شکار اس ہوائی اڈے کے اثاثے یا حصص فروخت کر دیے جائیں گے۔

تُرکوں کے نزدیک ان اثاثوں کے ممکنہ خریدار قطری ہوں گے جنہوں نے ہمیشہ سے ایردوآن کو مالی بحرانات اور ان کی عسکری مہم جوئیوں کے منجدھار سے نکالا۔

مرکزی بینک کے مطابق سرکاری سیکٹر پر مختصر مدت کے مجموعی قرضوں کا 35% بوجھ ہے جب کہ بقیہ قرضوں کی ذمے داری نجی سیکٹر پر ہے۔

نجی سیکٹر میں جن بیرونی قرضوں کو 12 ماہ کی گردش لانا ضروری ہے ان کا حجم 111 ارب ڈالر ہے۔ ان میں 61 ارب ڈالر کے قرضے کمپنیوں پر ہیں جب کہ بقیہ بینکوں کے پاس ہیں۔

قرضوں کو گردش میں لانے کے لیے ایک بار پھر بیرونی قرضوں کا آپشن بہت مہنگا ثابت ہوا ہے۔ اگست کے وسط میں کریڈٹ ڈیفالٹ کا رسک پریمیم 550-600 بیسس پوائنٹس کے درمیان تھا۔ اس نے فی الوقت ابھرتی ہوئی معیشتوں میں ترکی کو سب سے زیادہ خطرے کا حامل ملک بنا دیا ہے۔ اس فہرست میں دوسرے نمبر پر موجود ملک جنوبی افریقا کا رسک پریمیم ترکی کے مقابلے میں آدھا ہے۔

اس صورت حال کے باعث ترکی میں متعدد کمپنیوں نے پہلے ہی اپنی ملکیت تبدیل کرنا شروع کر دی ہے۔ اس حوالے سے تعمیرات، سیاحت اور شہری ہوابازی کے سیکٹر میں بڑے پیمانے پر فروخت کا عمل دیکھا جا رہا ہے۔

واضح رہے کہ ان قرضوں کو لیتے وقت ایک ڈالر کی قیمت سے 4 ترک لیرا تھی مگر اس وقت ڈالر کی قیمت 7 لیرہ سے کافی زیادہ ہے۔

ترکی کی وزارت خزانہ نے 17.2 ارب ڈالر کے قرضوں کے لیے ضمانت پیش کی تھی۔ ان قرضوں کو نجی کمپنیاں سات ضخیم منصوبوں میں استعمال کر رہی ہیں۔

ترکی کے مرکزی بینک پر واجب الاد 15 ارب ڈالر کے قرضے کے مقابل قطر کو استنبول فنانس سینٹر کے مرکزی شعبے پیش کیے گئے ہیں۔ یہ شان دار کمپلیکس ابھی زیر تعمیر ہے۔ ایسا نظر آتا ہے کہ ی ہڈیل جلد طے پا جائے گی۔

انقرہ کی شدید خواہش ہے کہ قطر کے ساتھ اس نوعیت کی مزید ڈیلز ہو جائیں تا کہ قرضوں کی ادائیگی کی صورت بن سکے۔ ممکنہ طور پر فروخت کیے جانے والے حصص میں ترکی کی قومی فضائی کمپنی کے حصص شامل ہیں۔ کمپنی کو کرونا کی وبا کے سبب رواں سال کی دوسری سہہ ماہی میں 2.2 ارب ترک لیرہ (30.4 کروڑ ڈالر) کا خسارہ ہوا۔ اس حوالے سے کمپنی کو بڑے پیمانے پر مالی سپورٹ کی ضرورت ہے۔ اسی طرح استنبول کا نیا ہوائی اڈہ ہے جو سالانہ 9 کروڑ مسافروں کی گنجائش رکھتا ہے۔ تاہم اپنے افتتاح کے ایک سال بعد بھی یہ ہوائی اڈہ اپنی مجموعی گنجائش کے 10% سے بھی کم پر کام کر رہا ہے۔

قطریوں کے لیے یہ سمجھوتے دل چسپی کا مرکز ہوں گے مگر ایک چیز ان کے لیے تشویش کا باعث بن رہی ہے وہ یہ ہے کہ ایردوآن حکومت کا مستقبل کیا ہو گا۔ اقتصادی مسائل کے بیچ ایردوآن کی عوامی مقبولیت میں کمی آ رہی ہے۔ ترکی میں آئندہ انتخابات 2023ء میں ہوں گے۔ توقع ہے کہ نئی حکومت آنے کی صورت میں وہ ایردوآن دور میں طے پانے والے معاہدوں پر نظر ثانی کرے۔ اس جائزے کے کیا نتائج برآمد ہوں گے اس کی قبل از وقت خبر دینا دشوار ہے۔