.

اسرائیل اور جرمنی کا ایران پر اسلحہ کی پابندی میں توسیع پر اتفاق

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیلی وزیر خارجہ گبی اشکنازی نے کل جمعرات کو برلن میں اپنے جرمن ہم منصب ہائیکو ماس سے ملاقات میں خطے میں ایران کے خریبی کردار پر تبادلہ خیال کیا ہے۔

اشکنازی نے اپنے جرمن ہم منصب کو باور کرایا کہ ایران خطے میں اپنے ایجنٹوں کے ذریعے علاقائی سلامتی کو پامال کر رہا ہے۔
توقع کی جارہی ہے کہ اپنے دو روزہ دورے کے دوران اسرائیلی وزیرخارجہ اشکنازی برلن میں یورپی یونین کے دیگر ممالک کے وزرائے خارجہ کے ساتھ ملاقات کریں گے۔

اشکنازی نے اپنے ٹویٹر اکاؤنٹ پر لکھا ہے کہ انہوں نے ہائیکو ماس سے خطے کی صورتحال اور ایران کی طرف سے علاقائی سلامتی کو نقصان پہنچانے کی کوششوں، لبنان میں حزب اللہ اور غزہ میں حماس کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا۔

جرمن وزیر خارجہ نے اشکنازی نے ملاقات میں اس بات پر اتفاق کیا کہ ایران پر عاید اسلحہ کی پابندی میں توسیع کی جانی چاہیئے لیکن انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ جرمنی ابھی بھی 2015 کے جوہری معاہدے کو ایران کو جوہری ہتھیاروں کے حصول سے روکنے کا ایک بہترین طریقہ سمجھتا ہے۔

برلن میں اشکنازی نے ایران پر اسلحہ کی پابندی میں توسیع کرنے کی ضرورت پر زور دیا تاکہ اسےمزید جدید اسلحہ حاصل کرنے اور مشرق وسطی میں اس کے استعمال کو روکا جا سکے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم یورپی ممالک سے بھی ایران کے حوالے سے موثر اقدامات کی توقع رکھتے ہیں۔

ہائیکو ماس نے کہا کہ ہم ایران پر اسلحہ کی پابندی عائد کرنے کے لیے ایک سفارتی حل پر پہنچنے کی کوشش کر رہے ہیں۔