.

القاعدہ کا یو اے ای،اسرائیل امن معاہدے پر ردِّعمل ، ابوظبی کے حکمرانوں پرنکتہ چینی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن میں فعال دہشت گرد تنظیم القاعدہ نے اسرائیل اور متحدہ عرب امارات کے درمیان امن معاہدے کے ردعمل میں ایک ویڈیو جاری کی ہے اور اس میں امارت ابوظبی کے حکمرانوں کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

آکسفورڈ یونیورسٹی کی پروفیسر ڈاکٹر ایلزبتھ کنڈال نے القاعدہ کی یہ ویڈیو ٹویٹر پر پوسٹ کی ہے۔وہ مشرقِ اوسط میں فعال دہشت گرد تنظیموں پر تحقیق میں ماہر سمجھی جاتی ہیں۔

اس گروپ نے ویڈیو کے ساتھ ایک تصویر بھی جاری کی ہے جس میں پس منظر میں تو مقبوضہ بیت المقدس میں مسجدالاقصیٰ نظر آرہی ہے اور اس پر عربی زبان میں لکھی عبارت میں ابو ظبی کے حکمران خاندان پر تنقید کی گئی ہے۔ایک دیوار پر یہ لکھا ہے:’’ بن زاید کون ہے؟اس نے اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کی ہے۔‘‘

اس میں یو اے ای کے صدر اور ابوظبی کے حکمران شیخ خلیفہ بن زاید آل نہیان یا ابو ظبی کے ولی عہد شیخ محمد بن زاید آل نہیان کا حوالہ دیا گیا ہے۔مؤخر الذکر نے اسرائیل سے ڈیل طے کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

یہ ویڈیو بظاہر القاعدہ کے الملاحم میڈیا چینل کی جانب سے جاری کی گئی ہے۔تاہم العربیہ اس کی تصدیق نہیں کرسکا ہے۔اس میں ابراہیم القوصی کی تصویر ظاہر ہورہی ہے۔یہ صاحب سوڈانی ہیں اور جزیرہ نما عرب میں القاعدہ کے مالی معاون سمجھے جاتے ہیں۔وہ ماضی میں کیوبا میں واقع امریکا کے جزیرے گوانتاناموبے کے بدنام زمانہ حراستی مرکز میں قید بھی کاٹ چکے ہیں۔

پروفیسر کنڈال کے بہ قول اس ویڈیو میں القصی کا امیج ہے لیکن جزیرہ نما عرب میں القاعدہ کے لیڈر خالد بن عمر بطرفی کی تصویر نہیں ہے۔اس سے اس گروپ میں اندرونی چپقلش اور قیادت کے لیے رسا کشی کی بھی عکاسی ہوتی ہے۔

واضح رہے کہ امریکا اور اس کے اتحادیوں کی القاعدہ کے خلاف دنیا بھر میں کارروائیوں اور اس کے لیڈر اسامہ بن لادن کی ہلاکت کے باوجود تنظیم اور اس کے وابستگان یمن اور لیبیا سمیت بہت سے ممالک میں اب بھی فعال ہیں اور وہ تشدد آمیز کارروائیاں کرتے رہتے ہیں۔

یو اے ای اور اسرائیل کے درمیان امن معاہدے کا 13 اگست کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا تھا۔ تاہم دونوں ملکوں کے لیڈروں نے ابھی تک اس پر دست خط نہیں کیے ہیں۔ امریکی صدر کے بہ قول وہ بہت جلد کسی وقت وائٹ ہاؤس میں اس امن معاہدے پر دست خط کردیں گے۔

اس معاہدے کے تحت اسرائیل نے مقبوضہ مغربی کنارے میں واقع اپنے زیر قبضہ وادیِ اردن اور بعض دوسرے علاقوں کو ریاست میں ضم کرنے کے منصوبے سے دستبردار ہونے سے اتفاق کیا ہے۔ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے ان علاقوں کو صہیونی ریاست میں ضم کرنے کا اعلان کررکھا تھا۔ فلسطینی اسرائیل کے زیر قبضہ غرب اردن اور غزہ کی پٹی پر مشتمل علاقوں میں اپنی آزاد ریاست قائم کرنا چاہتے ہیں جس کا دارالحکومت القدس ہو۔فلسطینی قیادت اس امن معاہدے کو مسترد کرچکی ہے۔

اسرائیل اور یو اے ای کے درمیان اس ڈیل کو’’معاہدۂ ابراہیم‘‘ (ابراہام اکارڈ) کا نام دیا گیا ہے۔اسرائیل کا کسی عرب ملک کے ساتھ 25 سال کے بعد یہ پہلا امن معاہدہ ہے۔اس کے بعد اسرائیل کی بعض دوسرے عرب ممالک کے ساتھ اس طرح کے امن معاہدوں اور سفارتی و تجارتی تعلقات کی بحالی کی راہ بھی ہموار ہوگئی ہے۔