.

امارات میں اسرائیل کے بائیکاٹ کا قانون ختم، متبادل تجارت کی اجازت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

متحدہ عرب امارات میں ایک آرڈیننس کے ذریعے اسرائیل کے بائیکاٹ کا قانون ختم کر دیا گیا ہے۔ اس طرح اسرائیلی اداروں اور افراد کے ساتھ تجارتی معاہدے اور سمجھوتے کرنے کی اجازت دے دی گئی ہے۔ یہ آرڈیننس امارات کے صدر شیخ خلیفہ بن زائد آل نہیان کی جانب سے جاری کیا گیا ہے۔ اس کے مطابق اسرائیل کے بائیکاٹ اور اس پر عائد پابندیوں سے متعلق وفاقی قانون نمبر 15 مجریہ 1972ء کو منسوخ کر دیا گیا ہے۔ یہ پیش رفت امارات اور اسرائیل کے درمیان امن معاہدے پر اتفاق رائے کے اعلان کے بعد سامنے آئی ہے۔

اماراتی سرکاری خبر رساں ایجنسی "وام" کے مطابق نئے قانون پر مشتمل آرڈیننس ،،، اسرائیل کے ساتھ سفارتی اور تجارتی تعاون کو وسیع تر بنانے کے لیے امارات کی جاری کوششوں کے ضمن میں جاری کیا گیا ہے۔ اس کا مقصد ایک نقشہ راہ کے تحت مشترکہ تعاون اور دو طرفہ تعلقات کو معیشت اور ٹکنالوجی کے میدان میں کام کر کے یقینی بنانا ہے۔

اسرائیل کے بائیکاٹ کا قانون منسوخ ہونے کے بعد اب امارات میں موجود افراد اور کمپنیوں کو اسرائیل میں مقیم افراد یا اداروں کے ساتھ معاہدوں کی اجازت ہو گی۔ اسرائیلی شہریت کے حامل افراد یا اسرائیل کے لیے کام کرنے والوں کے ساتھ خواہ وہ دنیا میں کسی بھی ملک میں ہوں ،، تجارتی، مالیاتی یا کسی بھی دوسری نوعیت کے معاملات انجام دیے جا سکیں گے۔

اسی طرح اب اسرائیل کی تیار کردہ تمام مصنوعات اور سامان کو متحدہ عرب امارات میں داخلے اور فروخت کی اجازت ہو گی۔

اسرائیلی فضائی کمپنی "العال" ایئرویز کے ترجمان نے گذشتہ روز تصدیق کی ہے کہ ان کی کمپنی پیر کے روز اسرائیل سے متحدہ عرب امارات کے لیے پہلی تجارتی کارگو پرواز چلائے گی۔

تل ابیب میں بن گوریون ایئرپورٹ سے براہ راست پرواز 31 اگست کو ایک اسرائیلی وفد اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سینئر معاونین کو لے کر اماراتی دارالحکومت ابوظبی روانہ ہو گی۔ ایک امریکی ذمے دار کے مطابق مذکورہ پرواز میں سوار امریکی ذمے داران میں صدر ٹرمپ کے مشیر اور داماد جیرڈ کشنر بھی شامل ہوں گے۔