.

یمنی حکومت کا حوثی باغیوں پر افریقی تارکین وطن کو جنگ میں جھونکنے کا الزام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن کے وزیراطلاعات و نشریات معمر الاریانی نے ایرانی حمایت یافتہ حوثی باغیوں پر الزام عاید کیا ہے کہ وہ لڑائی میں اپنی افرادی قوت میں کمی پوری کرنے کے لیے افریقی پناہ گزینوں کو جنگ کے لیے بھرتی کر رہے ہیں۔

مائیکرو بلاگنگ ویب سائٹ ٹویٹر پر پوسٹ کی گئی متعدد ٹویٹس میں معمر الاریانی نے کہا کہ ایرانی حمایت یافتہ حوثی ملیشیا کو میدان جنگ میں افرادی قوت کی قلت کا سامنا ہے۔ حوثیوں کے جنگجووں کی بڑی تعداد سرکاری فوج، عرب اتحادی فوج کے حملوں اور حکومت نواز قبائل کی کارروائیوں میں ہلاک ہوگئی ہے۔ جنگجووں کی کمی پوری کرنے کے لیے حوثی ملیشیا نے افریقی پناہ گزینوں کو بھرتی کرنا شروع کیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ حوثیوں کو مارب، الجوف، البیضا اور دوسری گورنریوں میں بھاری جانی اور مالی نقصان پہنچا ہے جس کے بعد انہوں نے افریقی پناہ گزینوں کو اجرتی جنگجووں کے طور پر بھرتی کرنا شروع کیا ہے۔

ایک ٹویٹ میں معمرالاریانی نے کہا کہ حوثی باغی افریقی تارکین وطن اور ملک میں غیرقانونی طور پر داخل ہونے والے افریقیوں‌ کو اپنی جنگی مقاصد کے لیے استعمال کر رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ دوسرے ملک کے شہریوں کو غیرقانونی طریقے سے جنگ کا ایندھن بنانا، ان کی مدد سے پڑوسی ملکوں کی سلامتی کو خطرے میں ڈالنا اور یمن کی قومی سلامتی کو تباہ کرنا بین الاقوامی انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی اور جنگی جرم ہے۔

یمنی وزیر اطلاعات نے انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی عالمی تنظیموں سے مطالبہ کیا کہ وہ حوثی باغیوں کے ہاتھوں انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں کا نوٹس لیں اور افریقی تارکین وطن کو یمن کی جنگ میں‌جھونکے جانے کے مجرمانہ طرز عمل کو روکیں۔