.

فرانس کے صدر بین الاقوامی مشن کے ساتھ آج بیروت پہنچ رہے ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

فرانس کے صدر عمانوئل ماکروں آج پیر کی شام لبنان کا سرکاری دورہ شروع کر رہے ہیں۔ ماکروں کے دورے کے دو بنیادی مقاصد ہیں۔ پہلا یہ کہ اُن اقدامات کے بارے میں قریب سے مطلع ہونا جن کا انہوں نے اپنے پہلے دورے میں مطالبہ کیا تھا تا کہ جلد ایک ریسکیو حوکمت تشکیل دی جا سکے جو اصلاحی اقدامات پر عمل درامد کرے۔ دوسرا یہ کہ وہ اس عظیم لبنان کے 100 سال پورے ہونے کی تقریب میں شرکت کریں۔ عظیم لبنان کا اعلان یکم ستمبر 1920ء کو فرانس نے کیا تھا جب لبنان اس کے زیر تسلط تھا۔

یہ نظر آ رہا ہے کہ فرانسیسی جانب ایسی حکومتی تشکیل کے ذریعے تبدیلی کی طرف میلان رکھتی ہے جو وزیر اعظم اور وزراء کے لحاظ سے سابقہ حکومتوں سے مختلف ہو۔ اس حکومت کا مشن لبنان کو محفوظ کنارے تک پہنچانا ہو۔

فرانسیسی دارالحکومت میں موجود ذرائع نے العربیہ ڈاٹ نیٹ سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ فرانس چاہتا ہے کہ لبنان میں ایک ایسی خود مختار حکومت کی تشکیل عمل میں آئے جو کئی برس سے سیاسی زندگی میں موجود روایتی جماعتوں سے "عارضی" طور پر دور ہو .. اور متعین مشن کی حامل حکومت کے سامنے راستہ کھولا جائے جو لبنان میں تعمیر نو اور مطلوبہ اصلاحات پر عمل درامد کی قدرت رکھتی ہو۔

ذرائع نے واضح کیا کہ پیرس چاہتا ہے کہ لبنان میں سیاسی جماعتیں نئی حکومت پر اعتماد کا اظہار کریں اور اس کی مدد کریں خواہ یہ جماعتیں اس حکومت کی نمائندگی نہ کر رہی ہوں۔

فرانس نے جمعرات کے روز ایک بار پھر اپنا یہ مطالبہ دہرایا تھا کہ لبنان میں حکومت کی تشکیل عمل میں لائی جائے اور "ہنگامی" اصلاحات کا سہارا لیا جائے۔ فرانسیسی وزیر خارجہ جان ایف لودریاں خبردار کر چکے ہیں کہ "آج یہ خطرہ پیدا ہو چکا ہے کہ لبنان دنیا کے نقشے سے مٹ نہ جائے ،،، لہذا یہ اقدامات کیے جانے چاہئیں"۔

البتہ ایسا نظر آتا ہے کہ لبنان میں روایتی سیاسی جماعتوں سے آزاد ایک متعین مشن کی حکومت تشکیل دینے کے حوالے سے دباؤ کے لیے ماکروں کی کوشش پیچیدہ ہے۔ اس لیے کہ خانہ جنگی کے بعد سے اقتدار میں موجود یہ سیاسی جماعتیں اقتدار کی "جنّت" سے بآسانی دست بردار نہیں ہوں گی۔ تاہم فرانسیسی صدر دونوں ملکوں کے درمیان امتیازی اور تاریخی اہمیت کے حامل تعلقات سے فائدہ اٹھانے کے لیے کوشاں ہیں۔

ذرائع کے مطابق ماکروں جس مشن پر لبنان آ رہے ہیں اسے بین الاقوامی سطح پر موافقت حاصل ہے۔ ایک ماہ سے بھی کم عرصے میں فرانسیسی صدر کا یہ بیروت کا دوسرا دورہ ہے۔ لبنان کے صدر میشیل عون نے آج پیر کی صبح پارلیمانی گروپوں کے ساتھ مطلوبہ مشاورت کا آغاز کر دیا۔ اس کا مقصد نئی حکومت کی تشکیل کے لیے کسی شخصیت کو نامزد کرنا ہے۔ تین ہفتے قبل عوامی دباؤ کے تحت وزیر اعظم حسان دیاب کی حکومت مستعفی ہو گئی تھی۔ لبنانی عوام نے اداروں کی غفلت اور بدعنوانی کے سبب سابقہ حکومت کو بیروت کی بندرگاہ پر دھماکے کا ذمے دار ٹھہرایا تھا۔

اس وقت نئی حکومت کی تشکیل کے حوالے سے سب سے زیادہ امکان کی حامل شخصیت جرمنی میں لبنان کے سفیر مصطفی ادیب ہیں۔ سابقہ حکومتوں کے سربراہان اور سعد حریری کی فیوچر پارٹی کے علاوہ دو شیعہ جماعتوں امل موومنٹ اور حزب اللہ نے بھی ادیب کا نام لیا ہے۔

پیرس میں موجود ذرائع کے مطابق فرانس وزارت عظمی کے حوالے سے ناموں میں مداخلت نہیں کرے گا کہ یہ لبنان کا اندرونی معاملہ ہے۔ البتہ پیرس کا سروکار اس بات سے ہے کہ حکومت کے اسلوب میں تبدیلی لائی جائے اور اس کے لیے ایسی حکومت آئے جو سابقہ یکے بعد دیگرے آنے والی حکومتوں سے ملتی جلتی نہ ہو۔ اس کا مطلب ہوا کہ ایسی حکومت جو موجودہ سیاسی طبقے سے مکمل طور پر آزاد اور خود مختار ہو۔

جمعے کے روز فرانسیسی صدر یہ بیان دے چکے ہیں کہ "اگر ہم خطے میں لبنان سے دست بردار ہو گئے اور ہم نے اسے شریز علاقائی قوتوں کے ہاتھوں میں چھوڑ دیا تو یہاں خانہ جنگی بھڑک اٹھے گی اور اس کے نتیجے میں لبنان کی شناخت تباہ ہو جائے گی"۔

قابل ذکر بات یہ ہے کہ عمانوئل ماکروں اپنے لبنان کے دورے میں آج شب لبنانی فن کارہ فیروز سے ان کے گھر پر ملاقات کریں گے۔ فیروز کی رہائش گا بیروت کے شمال میں انطلیاس کے علاقے کے نزدیک واقع ہے۔ اس موقع پر میڈیا کو ملاقات کی کوریج سے دور رکھا جائے گا۔

یاد رہے کہ ماکروں کا دورہ کل منگل تک جاری رہے گا۔ اس دوران وہ لبنان میں سیاسی ذمے داران ، سیاسی جماعتوں اور پارلیمانی گروپوں کے سربراہان کے علاوہ لبنان میں کیتھولک چرچ کے سینئر بطریق بشارہ الراعی سے ملاقات کریں گے۔ مزید برآں ماکروں عظیم لبنان کے اعلان کے 100 سال پورے ہونے پر بیروت کے قصر الصنوبر میں منعقد خصوصی تقریب میں شرکت کریں گے۔

اسی طرح وہ بیروت دھماکے کے نتیجے میں متاثرہ اور نقصان سے دوچار علاقوں کا دورہ کریں گے۔ اس دوران وہ بیروت کے شمال مشرق میں جاج کے جنگل میں لبنانی بچوں کے ساتھ چاول کے پیڑ کے پودے لگائیں گے۔