.

لبنان میں فرقہ وارانہ نظام تبدیل کرنے کا وقت آ پہنچا ہے: میشل عون

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لبنان کے صدر میشل عون کا کہنا ہے کہ اب وقت آگیا ہے کہ ملک کو فرقہ واریت کے نظام سے نجات دلائی جائے۔ ان کا کہنا ہے لبنان میں فرقہ وارانہ سیاسی نظام ایک مخصوص وقت کے لیے موزوں تھا اور اب وہ وقت نکل چکا ہے۔ اب وقت آگیا ہے کہ لبنان کو فرقہ وارانہ نظام سے محفوظ ایک نئے سیاسی نظام کے تحت چلایا جائے۔

یکم ستمبر کو عظیم تر لبنان ریاست کے اعلان کہ صد سالہ تقریبات کی مناسبت سے قوم سے خطاب میں انہوں‌ نے کہا کہ اب وقت آگیا ہے کہ فرقہ وارانہ نظام کو تبدیل کیا جائے۔ انہوں‌ نے واضح کیا کہ یہ نظام فرقوں کے حقوق اور ان کے مابین کوٹے پر مبنی ہے۔ یہ ایک وقت کے لیے موزوں تھا۔ اب اس کی ضرورت نہیں رہی ہے۔

انہوں نےمزید کہا کہ آج فرقہ وارانہ نظام ملک میں کسی بھی ترقی، کسی بھی پیشرفت، کسی بھی اصلاح اور انسداد بدعنوانی کی راہ میں رکاوٹ بن گیا ہے۔ لبنان میں یہ نظام تفرقہ، اشتعال انگیزی اور قوم کو ٹکڑوں میں بانٹنے کا سبن بن چکا ہے۔

میشل عون نے لبنان کو سول ریاست قرار دینے کا مطالبہ کرتے ہوئے اس بات پر بھی زور دیا کہ لبنانی نظام میں تبدیلی لانے کی ضرورت ہے، لیکن یہ بات یقینی ہے کہ لبنان کو اپنے امور کے انتظام میں ایک نئے تصور کی ضرورت ہے جو شہریت اور شہری ریاست پر مبنی ہونا چاہیے۔

انہوں نے ایک ایسے مکالمے کا مطالبہ کیا جس میں مذہبی اور سیاسی قائدین شامل ہوں۔ یہ مل کر ایک ایسا نظام تشکیل دیں‌جو سب کے لیے قابل قبول ہو۔ ان کا کہنا تھا کہ لبنان کی ایک صدی کا سفر بحرانوں پر مبنی رہا۔ اگرچہ اس عرصے میں خوشحالی اور ترقی وتجدید کے بھی متعدد دور آئے۔ تاہم ہمیں حقیقی استحکام کے لیے اپنا سیاسی نظام بدلنا ہوگا۔