.

خواتین تماشائیوں کی اسٹیڈیم میں داخلے پر پابندیوں پر 'فیفا' کی ایران کو دھمکی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

بین الاقوامی فٹ بال فیڈریشن 'فیفا' نے تنظیم کے قوانین کی خلاف ورزیوں‌ بالخصوص خواتین تماشائیوں کے فٹ بال کے گراونڈز میں داخلے پر پابندی پر ایران کی فٹ بال فیڈریشن کی رکنیت معطل کرنے کی دھمکی دی ہے۔

اگرچہ ایران میں فیفا کے زیراہتمام ہونے والے فٹ بال کے مقابلوں میں غیرملکی خواتین تماشائیوں کو میچوں میں شرکت کی اجازت ہے لیکن سنہ 1979 انقلاب کے بعد سے ایرانی خواتین کو مردوں کے میچ دیکھنے کے لیے اسٹیڈیم میں داخل ہونے کی اجازت نہیں۔

سوموار کے روز ایرانی میڈیا نے فیفا اور 'ایشائی فٹ بال فیڈریشن کے طرف سے ایرانی فٹ بال فیڈریشن کے نام لکھے گئے ایک مکتوب کا حوالہ دیا ہے جس میں انہوں‌ نے فیڈریشن کے قوانین کا احترام کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ اس مکتوب میں ایرانی فٹ بال فیڈریشن کو یاد دلایا گیا ہے کہ ماضی میں بھی ایرانی فٹ بال فیڈریشن کو فیفا کی طرف سے دھوکہ دہی اور قوانین کی خلاف ورزیوں‌ پر جرمانے کیے گئے اور کئی بار ایران کی فٹ بال فیڈریشن کی رکنیت معطل کی گئی ہے۔

مراسلہ میں کہا گیا ہے کہ فیفا بورڈ آف ڈائریکٹرز کے ممبران کو تہران میں پراسیکیوٹر آفس میں طلب کرنا خطرناک اقدام ہے جس کی وجہ سے ایران کی بین الاقوامی فٹ بال سرگرمیاں معطل ہو سکتی ہیں۔

مکتوب میں ایران کی طرف سے فیفا کے عہدیداروں کے خلاف قانونی چارہ جوئی کی آڑ میں انتقامی حربوں کی شدید مذمت کی گئی اور واضح کیا ہے کہ تہران کی طرف سے اٹھائے گئے بعض اقدامات فیفا میں ایران کی رکنیت کو معطل کر سکتے ہیں۔

فیفا کی طرف سے یہ دھمکی ایرانی قومی ٹیم کے سابق بیلجین کوچ مارک ولیمٹس کو ایران کے خلاف 62 لاکھ یورو دینے کے فیصلے کی خبر کے بعد سامنے آیا ہے۔