.

سعودی عرب میں دنیا کے مہنگے ترین چاول کی کاشت کاری کے تصویری مناظر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کی مشرقی گورنری الاحسا میں نہ صرف مملکت بلکہ پوری دنیا کے مہنگے ترین چاول کاشت کیے جاتے ہیں۔ الاحسا میں ان دنوں چاول کی فصل کی کاشت کا موسم ہے اور کسان پو پھوٹنے کے ساتھ ہی کھیتوں کو چل دیتے اور سورج کی تمازت کے زور پکڑنے تک کھیتوں میں دھان کی اچھی خاصی کاشت کاری کر لیتے ہیں۔ ایسے لگتا ہے کہ الاحسا کے کسانوں میں دھان کی کاشت کاری کا مقابلہ برپا ہے اور ہر ایک دوسرے سے آگے مہنگے چاولوں کی کاشت میں سبقت لے جانا چاہتا ہے۔

العربیہ ڈاٹ‌ نیٹ نے ایک رپورٹ میں الاحسا میں چاول کی کاشت کی تازہ تصاویر حاصل کی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق 'الاحسا کا لال چاول' پوری دنیا میں مشہور اور مہنگا ترین چاول سمجھا جاتا ہے۔ آج کل اس چاول کی تیارہ شدہ پنیری کو نکال کر پانی سے بھرے کھیتوں میں وقفے وقفے سے اس کی بیجائی کا موسم ہے جسے مقامی زبان میں 'السنایہ' کا مرحلہ کہا جاتا ہے۔ کاشت کار پنیری پہلے تیار کرتے ہیں جب کہ چاول کی کاشت کا کل عرصہ چار ماہ پر مشتمل ہوتا ہے۔

الاحسا گورنری کے کسان مقامی سطح پر چاول کی کاشت کے ماہر سمجھے جاتے ہیں۔ اگست کا مہینہ اس علاقے میں چاولوں کی کاشت کے حوالے سے انتہائی اہمیت کا حامل ہوتا ہے۔ پنیری کی تیاری کے بعد کسان کھیتوں میں ہل چلا کراس کی میٹی میں پانی ملاتے ہیں جس کے بعد اس پنیری کو تھوڑا تھوڑا کرکے وفقے وفقے سے ان کھیتوں میں لگاتے جاتے ہیں۔ یوں پنیری کے بعد کھیتوں میں پنیری کو لگانا دوسرا اہم ترین مرحلہ ہوتا ہے۔ پنیری کے بیجائی کے بعد کٹائی اور صفائی تک کسان مسلسل کھیتوں میں اپنے کام میں جتے رہتے ہیں مگر تیسرا اہم ترین مرحلہ دھان کے خوشے لگنے کے بعد انہیں بچانا اور کٹائی تک ان کی دیکھ بحال کرنا ہوتا ہے۔ فصل کی کٹائی کے بعد دھان کے دانے خوشوں سے الگ کیے جاتے ہیں اور انہیں دھوپ میں مزید خشک کیا جاتا ہے۔

الاحسا میں چاول کی کاشت صدیوں سے چلی آ رہی ہے۔ مقامی لوگ دیسی کاشت کردہ چاولوں سے اپنے مہمانوں کی تواضع کرتے ہیں۔
دنیا کے ان مہنگے ترین چاولوں کی قیمت کے حوالے سے اتنا جاننا کافی ہے کہ الاحسا میں کاشت ہونے والے لال چاول کے ایک کلو گرام کی قیمت 25 ریال تک ہوتی ہے۔ یہ چاول سعودی عرب کے دوسرے شہروں میں فروخت ہونے کے ساتھ ساتھ بیرون ملک بھی بھیجا جاتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ الاحسا میں کاشت ہونے والے چاول میں کئی قدرتی خواص پائے جاتے ہیں جن میں آئرن ، فائبر اور وٹامن بی خاص طورپر شامل ہیں۔