.

بغداد : عراقی وزیراعظم اور فرانسیسی صدر کا جوہری پاورپلانٹ کے منصوبے پر تبادلہ خیال

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

فرانسیسی صدر عمانوایل ماکروں نے عراق کے وزیراعظم مصطفیٰ الکاظمی سے توانائی کے شعبے میں تعاون کے فروغ اور جوہری پاور پلانٹ کے ایک منصوبے کے بارے میں تبادلہ خیال کیا ہے۔

مصطفیٰ الکاظمی نے بغداد میں بدھ کو فرانسیسی صدر سے ملاقات کے بعد مشترکہ نیوز کانفرنس میں بتایا ہے کہ ’’ہم نے مستقبل کے ایک منصوبے کے بارے میں تبادلہ خیال کیا ہے۔یہ جوہری توانائی سے بجلی پیدا کرنے کا منصوبہ ہے۔‘‘

انھوں نے مزید بتایا کہ ’’جوہری توانائی کے پُرامن مقاصد کے لیے استعمال سے متعلق یہ منصوبہ ویانا میں قائم جوہری توانائی کے عالمی ادارے (آئی اے ای اے) کے تحت کام کرے گا۔ عراق میں اس پاور پلانٹ کی تنصیب سے روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے اور بجلی کی قلّت پر قابو پایا جاسکے گا۔‘‘

عمانوایل ماکروں نے اس موقع پر بتایا کہ انھوں نے داعش کے جنگجوؤں سے درپیش خطرے سے نمٹنے کے لیے فوجی تعاون اور بغداد میں فرانس کی معاونت سے میٹرو ریلوے کی تعمیر کے منصوبے کے بارے میں بھی تبادلہ خیال کیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’’فوجی تعاون کے معاملے میں عراق کی خودمختاری کا احترام کیا جانا چاہیے۔فرانس وزیراعظم الکاظمی کی ملک کی خود مختاری کے تحفظ اور تمام مسلح افواج کو ’’معمول‘‘ کے مطابق بنانے کے لیے کاوشوں کی حمایت کرتا ہے۔‘‘ فرانسیسی صدر کا ایران کی حمایت یافتہ مسلح ملیشیاؤں کی جانب اشارہ تھا۔