.

فرانسیسی صدر ماکروں عراقی ’’خود مختاری‘‘ بچانے بغداد پہنچ گئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق فرانس کے صدر عمانوئل ماکروں آج بدھ کے روز بغداد پہنچ گئے۔ یہ ان کا عراق کا پہلا دورہ ہے۔ دورے کا مقصد عراق کی خود مختاری کو یقینی بنانے میں اس کی مدد کرنا ہے جو اس وقت خود کو دو حلیفوں واشنگٹن اور تہران کے درمیان کشیدگی کے بیچ پا رہا ہے۔

ماکروں لبنان کے دارالحکومت بیروت میں دو روز گزارنے کے بعد بغداد پہنچے۔ یہاں وہ چند گھنٹے گزاریں گے اور اس دوران اہم ترین عہدیداروں سے ملاقات کریں گے۔

رواں سال مئی میں مصطفی الکاظمی کے وزیر اعظم بننے کے بعد یہ کسی بھی ملک کے سربراہ کا عراق کا پہلا دورہ ہے۔

سیکورٹی وجوہات کی بنا پر فرانسیسی ایوان صدارت نے آخری وقت میں اس دورے کا انکشاف کیا۔ معلوم رہے کہ عراقی حکام کئی روز قبل اس کا اعلان کر چکے تھے۔

منگل کی شام لبنان کے دورے کے اختتام پر ایک پریس کانفرنس کے دوران ماکروں کا کہنا تھا کہ "میں کل صبح عراق میں ہوں گا تا کہ اقوام متحدہ کے تعاون سے اس ملک کی خود مختاری کی حمایت کے لیے مہم کا آغاز کر سکوں"۔

اس سے قبل جمعے کے روز صحافیوں کے ساتھ ملاقات میں ماکروں کا کہنا تھا کہ "عراق کی خود مختاری کا معرکہ بنیادی اہمیت کا حامل ہے تا کہ عراق اور اس کے عوام کو علاقائی قوتوں اور دہشت گردی کے آگے جھکنے سے بچایا جا سکے"۔

عراق کئی برس سے اپنے سب سے زیادہ رسوخ کے حامل دو شراکت داروں واشنگٹن اور تہران کے درمیان پھنسا ہوا ہے۔

عراق کو جہاں گذشتہ برس بھرپور عوامی احتجاجی تحریک دیکھنے میں آئی ،، اقتصادی حوالے سے مشکل صورت حال کا سامنا ہے۔

بغداد میں فرانسیسی صدر ماکروں اپنے عراقی ہم منصب برہم صالح اور وزیر اعظم مصطفی الکاظمی کے ساتھ بات چیت کریں گے۔ وہ دیگر عراقی عہدے داران کے ساتھ ظہرانے میں شرکت کریں گے۔

عراقی وزیر اعظم کے مشیر ہاشم داؤد نے منگل کے روز کہا کہ یہ دورہ بڑی اہمیت کا حامل ہے کہ ایک ماہ میں کسی بھی فرانسیسی عہدے دار کا یہ عراق کا تیسرا دورہ ہے۔

فرانسیسی وزیر خارجہ جان ایف لودریاں نے جولائی میں بغداد کا دورہ کیا تھا۔ انہوں نے زور دیا تھا کہ عراق کو خود کو اپنے اطراف کے تناؤ اور کشیدگیوں سے دور رکھنے کی ضرورت ہے۔ فرانس کی وزیر فوج فلورنس پارلی نے 27 اگست کو بغداد اور اِربیل کا دورہ کیا۔ اس دوران انہوں نے داعش تنظیم کے انسداد کی کوششیں جاری رکھنے کی ضرورت پر زور دیا۔

رواں سال جنوری میں بغداد میں امریکا کے ہاتھوں ایرانی پاسداران انقلاب کی القدس فورس کے کمانڈر جنرل قاسم سلیمانی کی ہلاکت کے بعد عمانوئل ماکروں نے "جارحیت کم کرنے" کا مطالبہ کیا تھا۔ سلیمانی کے قتل کے جواب میں تہران نے مغربی عراق میں امریکی فوجیوں پر بم باری کی تھی۔

اسی طرح ایران کے حمایت یافتہ عراقی گروپوں نے کئی بار ملک میں امریکی سفارت خانے کے علاوہ امریکی عسکری اور تجارتی مفادات کو راکٹوں سے نشانہ بنایا۔

ماکروں کا دورہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ 21 اگست کو اعلان کر چکے ہیں کہ وہ عراق سے اپنی افواج واپس بلا لیں گے۔ تاہم اس حوالے سے کسی ٹائم ٹیبل کا اعلان نہیں کیا گیا۔ عراق میں اس وقت تقریبا 5 ہزار امریکی فوجی اور سفارتی اہل کار موجود ہیں۔

عراق سے فرانسیسی افواج کا آخری دستہ رواں سال کے دوران کوچ کر گیا تھا۔

عراق میں قید فرانسیسی دہشت گردوں کے حوالے سے پوچھے گئے سوال کے جواب میں فرانس کے صدر کا کہنا تھا کہ "یہ لوگ اپنی مرضی سے بیرونی محاذوں پر لڑنے کے لیے گئے اور ایک خود مختار ریاست میں دہشت گردی کی کارروائیوں میں ملزم ٹھہرائے گئے ،،، لہذا ان کے خلاف عدالتی کارروائی بھی اسی ملک میں ہونا چاہیے"۔

تقریبا 150 فرانسیسیوں کو داعش تنظیم میں شمولیت اختیار کرنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا۔ ان میں اکثریت شمال مشرقی شام میں کرد انتظامیہ کے کیمپوں اور حراستی مراکز میں موجود ہیں۔ ادھر عراق میں 11 فرانسیسی دہشت گرد زیر حراست ہیں جن کو سزائے موت سنائی جا چکی ہے۔

ایک عراقی ذمے دار کے مطابق عراق کی خود مختاری کے حوالے سے فرانسیسی صدر کا دورہ ترکی کے لیے بھی ایک بالواسطہ پیغام ہے۔

ترکی نے جولائی میں شمالی عراق میں فضائی اور زمینی آپریشن کیا جس کے دوران وہاں کرد جنگجوؤں کو نشانہ بنایا گیا۔ اس آپریشن نے بغداد حکومت کو غیض و غضب میں مبتلا کر دیا جس نے اپنی سرزمین کی حدود کی پامالی کی پُر زور مذمت کی۔

لیبیا میں تنازع کے پس منظر میں فرانس اور ترکی کے درمیان کشیدگی اپنے عروج پر ہے۔ یہاں دونوں ملکوں پر الزام ہے کہ وہ متحارب فریقوں کو سپورٹ کر رہے ہیں۔ اس کے علاوہ بحیرہ روم کے شمرق میں گیس کی تلاش کی کھدائی کا معاملہ بھی پیرس اور انقرہ کے بیچ اختلاف کا باعث ہے۔

عراقی ذرائع کے مطابق ماکروں اربیل نہیں جائیں گے بلکہ وہ بغداد میں کرد ذمے داران سے ملاقات کریں گے۔

ماکروں نے 2017ء میں صدارت کی کرسی سنبھالنے کے بعد کرد حکام اور عراقی حکومت کے درمیان ثالثی کی پیش کش کی تھی۔ کردوں کی جانب سے خود مختاری کے متعلق ریفرینڈم منعقد کرانے پر فریقین کے بیچ اختلافات نے جنم لیا تھا۔ عراقی حکومت نے ریفرینڈم کی مخالفت کی تھی۔