.

ترکی کے بھیجے ہوئے اجرتی جنگجوؤں کی چوریوں اور جنسی حملوں کے سبب لیبیائی عوام چراغ پا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لیبیا کی سرزمین پر ہزاروں شامی اجرتی جنگجو موجود ہیں جنہیں ترکی نے وہاں وفاق حکومت کے شانہ بشانہ لڑنے کے لیے لیے بھیجا۔ ان اجرتی جنگجوؤں کے سبب لیبیا میں امن و امان کی صورت حال برباد ہو رہی ہے اور لیبیا کے عوام میں شدید رد عمل جنم لے رہا ہے۔ یہ بات حال ہی میں سامنے آنے والی ایک امریکی رپورٹ میں بتائی گئی ہے۔

امریکی وزارت دفاع کے ایک اعلی عہدے دار کی جانب سے پیش کی جانے والی رپورٹ میں افریقا میں امریکی عسکری کمان (AFRICOM) کی فراہم کردہ معلومات کو بنیاد بنایا گیا ہے۔ ایسوسی ایٹڈ پریس نیوز ایجنسی کے مطابق رپورٹ میں لیبیا میں ترکی کی مداخلت اور سرگرمیوں کے حجم پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ انقرہ نے کم از کم 5000 ایسے اجرتی جنگجوؤں کو لیبیا بھیجا جو شام کی جنگ میں ترکی کے ساتھ بہت قریب رہ کر کام کر چکے ہیں۔ ان جنگجوؤں کو بھیجنے کا مقصد طرابلس میں وفاق حکومت کی حلیف سملح ملیشیاؤں کی مدد کرنا ہے جو لیبیا کی فوج کے خلاف لڑائی میں مصروف ہیں۔

افریکوم نے وفاق حکومت کی فورسز کے شانہ بشانہ لڑنے والے شامی اجرتی جنگجوؤں کو غیر تربیت یافتہ اور غیر تعلیم یافتہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ان کے لڑائی میں شریک ہونے کا اصل محرک بڑی تنخواہوں کے وعدے ہیں۔ افریکوم کے مطابق ان میں بعض عناصر شدت پسند اور سخت گیر ہیں۔ ترکی کی نجی عسکری کمپنی "سادات" نے ان افراد کی تربیت کی نگرانی کی اور انہیں معاوضہ ادا کیا۔

واضح رہے کہ سادات کمپنی کا بانی عدنان تانری فردی ایک ریٹائرڈ میجر جنرل ہے۔ اس کا ترکی کے صدر رجب طیب ایردوآن کے ساتھ مضبوط تعلق ہے اور وہ ایردوآن کے ایک عسکری مشیر کے طور پر بھی کام کر چکا ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ رواں سال اپریل سے جون کے درمیان ترکی نے اپنی باقاعدہ فوج کے سیکڑوں اہل کاروں کو بھی لیبیا بھیجا۔ ان میں تکنیکی عملہ اور لیبیا کے مغرب میں نصب ترکی کے فضائی دفاعی نظام کو چلانے والے اہل کار شامل ہیں۔

رپورٹ نے شامی اجرتی جنگجوؤں کی موجودگی کا سلسلہ جاری رہنے کے ،،، لیبیا میں امن و امان کی عام صورت حال پر پڑنے والے منفی اثرات سے بھی خبردار کیا ہے۔ بالخصوص اس طرح کی رپورٹوں کے بعد جس میں کہا گیا ہے کہ مغربی علاقوں میں ان عناصر کی جانب سے چوریوں ، جنسی حملوں اور بدترین سلوک کے واقعات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ اس کے نتیجے میں لیبیا کے عوام کی جانب سے شدید ردود عمل سامنے آنے کا قوی امکان ہے۔

یاد رہے کہ ترکی کی جانب سے وفاق حکومت کے لیے عسکری سپورٹ پیش کرنے اور وفاق کی فورسز کی سپورٹ کے لیے شامی اجرتی جنگجوؤں کی لیبیا منتقلی کا سلسلہ جاری ہے۔ اس اقدام سے یہ گمان مضبوط ہوتا ہے کہ انقرہ دو ہفتے قبل وفاق حکومت اور لیبیائی پارلیمںٹ کی جانب سے اعلان کردہ فائر بندی کے سمجھوتے کا احترام کرنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا ہے۔