.

کھچا کھچ بھری جیلیں اور غفلت ... ایران میں قیدیوں میں کرونا پھیلنے کے بنیادی اسباب

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

کھچا کھچ بھری جیلیں ، سرکاری غفلت اور یہاں تک کہ مقامی صابن تک کی قلت ... یہ وہ الفاظ ہیں جن کے ذریعے انسانی حقوق کے ایک ادارے نے ایران میں جیلوں کا نقشہ کھینچا ہے۔

گذشتہ ماہ اگست کے دوران کرونا وائرس نے ایران کی جیلوں میں قیدیوں کے بیچ وسیع پیمانے پر جگہ بنائی۔ یہ بات قیدیوں کے حقوق کے میدان میں سرگرم ادارے عبدالرحمن برومند فاؤنڈیشن نے اپنی ایک تازہ رپورٹ میں بتائی ہے۔ رپورٹ میں ایرانی حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ جیلوں میں کرونا کے انسداد کے لیے بین الاقوامی پاسداریوں کے مطابق کام کرے۔

عبدالرحمن برومند فاؤنڈیشن کا صدر دفتر امریکی دارالحکومت واشنگٹن میں ہے۔ ادارے نے اپنے ایک بیان میں بتایا ہے کہ "اگست 2020ء میں کرونا وائرس کی وبا چنگھاڑتے ہوئے ایران کے تمام علاقوں میں پھیلی۔ بالخصوص قیدیوں سے کھچا کھچ بھری اور غیر صحت مند ماحول کی حامل جیلوں میں اس نے تیزی سے جگہ بنائی۔ متعلقہ حکام نے وہ مالی وسائل اور سہولیات فراہم نہیں کیں جن کی اس مرض کا مقابلہ کرنے کے لیے قیدیوں کو ضرورت ہے۔ یہاں تک کہ قیدیوں کے پاس مقامی طور پر تیار کیے جانے والے صابن اور سینیٹائزر بھی نہیں۔

رپورٹ کے مطابق ایران کی جیلیں اس وبائی وائرس کو قابو کرنے میں ناکام ہو گئیں۔ قابل توجہ بات یہ ہے کہ مشہد سینٹرل جیل کا کمپاؤنڈ (وکیل آباد) جس کے 3 ہالوں کی مجموعی گنجائش تقریبا 600 افراد کی ہے ،،، اب کرونا وائرس کے مصدقہ اور مشتبہ متاثرین کا مرکز بن چکا ہے۔

اسی طرح بدنام زمانہ ایفین جیل میں کم از کم 8 سیاسی قیدیوں کے کرونا سے متاثر ہونے کی تصدیق کی گئی ہے۔

یاد رہے کہ ایران میں چند ماہ قبل متعدد جیلوں میں بغاوت کی لہر دیکھنے میں آئی تھی۔ اس کی وجہ قیدیوں کے درمیان کرونا کی وبا پھیل جانے کا خوف تھا۔ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والے وڈیو کلپوں میں ایران کے مغرب میں کردستان صوبے کی ایک جیل سے درجنوں قیدیوں کو فرار ہوتے دیکھا گیا۔

رواں سال اپریل میں اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے کمیشن کے ترجمان روبرٹ کولفل نے ایران میں قیدیوں کے حوالے سے اپنی تشویش کا اظہار کیا تھا۔ یہ تشویش ان رپورٹوں کے بعد سامنے آئی جن میں کہا گیا تھا کہ ایران کی جیلوں میں کرونا وائرس کے پھیل جانے کے خوف سے شورش جنم لے رہی ہے۔ ایران دنیا بھر میں کرونا سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ممالک میں سے ہے۔