.

حوثی باغیوں‌ نے صنعا کے تاریخی محل کو قبرستان میں تبدیل کر دیا: تصاویر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن میں ایرانی حمایت یافتہ حوثی ملیشیا کی جانب سے تاریخی مقامات کو تباہ کرنے اور انہیں اپنے مذموم مقاصد کے لیے استعمال کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق حوثی ملیشیا نے صنعا میں موجود ایک تاریخی محل کے احاطے کو جنگ میں ہلاک ہونے والے اپنے جنگجووں کے قبرستان میں تبدیل کرکے اس کی اہمیت کم کرنے کی مذموم کوشش کی ہے۔

مقامی ذرائع نے بتایا کہ حال ہی میں حوثی انتظامیہ نے وسطی صنعا میں موجود دارالحمد محل پر دھاوا بولا اور اسے اپنے مقتول جنگجووں‌ کے قبرستان کے لیے استعمال کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ حوثی ملیشیا نے ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت دارالحمد محل اور اس کے اطراف میں موجود املاک پر بھی قبضہ کر لیا ہے۔

خیال رہے کہ یمن کے سابق صدر علی عبداللہ صالح نے ایک صدارتی فرمان کے تحت دارالحمد محل کو قومی ثقافتی ورثے کا حصہ قرار دیتے ہوئے اس کے احاطے اور اطراف میں کسی قسم کی دیگر سرگرمیوں پرپابندی عاید کردی تھی۔ اس محل کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یمن کے سابق فرمانروا امام احمد کے ایک بھائی کے استعمال میں رہا اور وہ گذشتہ صدی میں 1948ء سے 1962ء تک اس میں مقیم رہے۔

سنہ 2018ء میں یمن کی انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی ایک تنظیم نے حوثیوں کے ہاتھوں ہونے والی انسانی حقوق کی پامالیوں پر ایک رپورٹ شائع کی۔ اس رپورٹ میں کہا گیا کہ حوثی ملیشیا ملک میں‌موجود تاریخی اور ثقافتی اہمیت کے حامل مقامات کو اپنے عسکری اور فوجی مقاصد کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔

یمن کے ذرائع ابلاغ کے مطابق اگست 2020ء کے دوران حوثی ملیشیا کو بھاری جانی نقصان کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ اگست میں صنعا، دارالبیضا، مارب اور الجوف میں میدان جنگ میں حوثیوں کو اپنے 514 جنگجوئوں کی قربانی دینا پڑی ہے۔ ہلاک ہونے والے جنگجووں کی بڑی تعداد صنعا کے تاریخی دارالحمد کے احاطے میں دفن کیا گیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں