.

عراق : مقتول کارکنان کے اہل خانہ قاتلوں کے احتساب کے منتظر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق میں کئی ماہ سے یہ عوامی مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ گذشتہ برس اکتوبر میں مظاہروں کے آغاز کے بعد ٹارگٹ کلنگ کے ذریعے نوجوانوں کو موت کی نیند سلا دینے والے قاتلوں کا احتساب کیا جئے۔ مذکورہ مظاہرے ملک میں بدعنوانی اور کوٹہ سسٹم کے خلاف احتجاج کے سلسلے میں کیے گئے۔

عراقیوں کی ایک بڑی تعداد وزیر اعظم مصطفی الکاظمی سے امیدیں وابستہ کر چکی ہے جنہوں نے بارہا مظاہرین کے تحفظ اور کارکنان کے قاتلوں کے احتساب کا وعدہ کیا۔ اگرچہ ابھی تک کسی ایک مشتبہ شخص کے خلاف بھی عدالتی کارروائی نہیں کی گئی۔

عراقی وزارت داخلہ نے گذشتہ روز قانون نافذ کرنے والی فورسز کی قیادت ختم کرنے کا اعلان کیا۔ کارکنان کی جانب سے الزام عائد کیا گیا تھا کہ یہ قتل اور ٹارگٹ کلنگ کی کارروائیوں میں ملوث ہے۔ ساتھ ہی اسی نام سے ایک شعبہ قائم کیا گیا ہے جو بغداد پولیس ڈائریکٹوریٹ کے ماتحت ہو گا۔ وزارت داخلہ کی جانب سے جاری سرکاری دستاویز کے مطابق قانون نافذ کرنے والے اداروں کے تمام عناصر کو بغداد صوبے کے پولیس ڈائریکٹوریٹ کے ماتحت کر دیا گیا ہے۔ علاوہ زیں دستاویز میں بتایا گیا ہے کہ شعبے کی سطح پر قانون نافذ کرنے والے کی کمان قائم کی گئی ہے۔ اس کو دارالحکومت کے پولیس ڈائریکٹوریٹ سے منسلک کیا گیا ہے۔

یاد رہے کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی قیادت سابق وزیر اعظم عادل عبدالمہدی نے تشکیل دی تھی۔ اس کا مقصد بغداد میں احتجاجی مظاہرین کے ساتھ نمٹنا تھا۔

ادھر سپریم جوڈیشل کونسل نے گذشتہ روز اعلان میں بتایا کہ عوامی مظاہروں کے دوران رو نما ہونے والے واقعات کی تحقیقات کرنے والی کمیٹی نے پوچھ گچھ کے لیے سابقہ حکومت کے وزیر داخلہ اور وزیر دفاع کو طلب کر لیا ہے۔ کونسل کے سربراہ جسٹس فائق زیدان نے ایک اخبار بیان میں بتایا کہ خصوصی تحقیقاتی کمیٹی نے وزارت دفاع اور وزارت داخلہ سے تعلق رکھنے والے متعدد اہل کاروں کے خلاف گرفتاری کے وارنٹ جاری کیے ہیں۔ ان کے مطابق متعدد افسران اس وقت ریمانڈ پر ہیں جن سے تحقیقات جاری ہیں جب کہ دیگر کئی افسران کے خلاف خصوصی عدالتوں کے فیصلے سنائے جا چکے ہیں۔ اب کورٹ آف کیسیشن کی جانب سے ان فیصلوں کو توثیق کی جا رہی ہے۔

یاد رہے کہ عراق میں گذشتہ برس یکم اکتوبر سے شروع ہونے والے مظاہروں کے دوران پرتشدد واقعات اور ٹارگٹ کلنگ کی کارروائیاں دیکھنے میں آئیں۔ اس دوران سرگرم کارکنان، میڈیا پرسنز اور وکلاء کو موت کی نیند سلا دیا گیا۔ ٹارگٹ کلنگ کی کئی کارروائیاں سڑکوں پر لگے سیکورٹی کیمروں کی آنکھ میں محفوظ ہو گئیں تاہم اس کے باوجود ابھی تک کسی ملزم کو حراست میں نہیں لیا گیا۔

مظاہروں کا آغاز معاشی حقوق کے حصول اور بدعنوانی کے انسداد سے متعلق مطالبات سے ہوا تھا۔ بعد ازاں یہ مطالبات سیاسی صورت اختیار کر گئے اور عوام نے ملک میں بنیادی نوعیت کی تبدیلی لانے کا مطالبہ شروع کر دیا۔ اس دوران پرتشدد واقعات میں سیکڑوں مظاہرین ہلاک ہوئے۔

العربیہ کو دیے گئے ایک سابقہ بیان میں انسانی حقوق کمیشن کے سرکاری ترجمان علی البیاتی نے واضح کیا تھا کہ عراق میں مظاہروں کے دوران 550 سے زیادہ ہلاکتیں ہوئیں۔

روئٹرز نیوز ایجنسی کے مطابق ہلاک شدگان میں بڑی تعداد احتجاجیوں کی تھی۔ مزید یہ کہ احتجاج شروع ہونے کے بعد سے تقریبا 80 افراد کے اغوا ہونے کا اندراج ہوا۔ بعد ازاں صرف 22 کے قریب مغویوں کی رہائی عمل میں آئی۔

مقبول خبریں اہم خبریں