.

پابندیوں کے باعث ہم تیل کا ایک قطرہ فروخت کے قابل بھی نہیں رہے: ایرانی عہدیدار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا کی طرف سے ایران پر نئی اقتصادی پابندیوں کے قریب آنے سے ہی ایرانی عہدیدار پہلے سے عاید پابندیوں پر چلا اٹھے ہیں۔ ایرانی ایرانی صدر حسن روحانی کے معاون اور بجٹ سازی کمیٹی کے سربراہ محمد باقر نوبخت نے کہا ہے کہ ایران اب تک سخت ترین پابندیوں سے گذر رہا ہے کیونکہ وہ اب ایک قطرہ بھی تیل نہیں بیچ سکتا ہے۔

ایرانی خبر رساں ایجنسی "آئی آر این اے" کے مطابق نوبخت نے جمعرات کے روز صوبہ ہمدان میں ترقیاتی اور منصوبہ بندی کمیٹی کے ساتھ ایک اجلاس کے دوران کہا کہ پابندیوں کے انتہائی سخت مراحل میں اب ہم انتہائی غیر منصفانہ صورتحال میں ہیں جہاں ہم تیل کا ایک قطرہ بھی نہیں بیچ سکتے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ یہاں تک کہ اگر تیل فروخت کیا جاتا ہے تو اس کے باوجود مالی تبادلے کا کوئی امکان نہیں ہے۔
"ارنا" ایجنسی نے اپنی ویب سائٹ سے ایرانی صدر کے معاون کے بیانات کو اس کی اشاعت کے چند گھنٹوں بعد ہی ہٹا دیا لیکن نوبخت کے اسی بیان کو دوسری سرکاری ویب سائٹ پر دوبارہ شائع کیا گیا۔

ایرانی تیل کی برآمدات کو صفر کرنے کا منصوبہ امریکی زیادہ سے زیادہ دباؤ پالیسی کے بنیادی اہداف میں سے ایک ہے۔ امریکا نے مئی 2018 میں ایران کے جوہری معاہدے سے دستبرداری اختیار کی تھی اور پھر گذشتہ سال مئی میں اپنے صارفین کے لیے یرانی تیل کی چھوٹ منسوخ کر دی تھی۔

آئل ٹینکروں کو ٹریک کرنے والی کمپنیوں کے اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ ایران بہت محدود مقدار میں محدود راستے اور خفیہ ذرائع کے ذریعہ خام تیل فروخت کرتا ہے لیکن ابھی تک اس بارے میں کوئی رپورٹ شائع نہیں کی گئی ہے کہ وہ یہ رقم کیسے وصول کرتا ہے۔

اور ایرانی صدر حسن روحانی نے گذشتہ ماہ اعلان کیا تھا کہ ان کی حکومت نے امریکی پابندیوں کی روشنی میں عوامی بجٹ کے خسارے کو ادا کرنے کے لہے ہارڈ کرنسیوں اور سونے کے بدلے ایرانی شہریوں کو بانڈ کے بطور تیل فروخت کرنے کے منصوبے پر عمل درآمد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں