.

خامنہ ای نے مہدی کروبی پر پابندیوں میں‌ نرمی کیوں کی؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

حال ہی میں ایران کے نظر بند اصلاح پسند رہ نما مہدی کروبی کا آئندہ سال ہونے والے صدارتی انتخابات سےمتعلق ایک بیان اور ان کی اپنے حامیوں کے ساتھ ملاقات کی تصاویر سامنے آئی ہیں۔ یہ بیان اور تصاویر سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے حکم پر عاید کی گئی پابندیوں میں نرمی کے بعد سامنے آئے ہیں۔

العربیہ ڈاٹ‌ نیٹ کے مطابق مہدی کروبی کو سنہ 2009ء کے صدارتی انتخابات میں مبینہ دھاندلی کے خلاف تحریک چلانے پر گھر پر نظر بند کر دیا گیا تھا۔

سوشل میڈیا پران کا ایک بیان سامنے آیا ہے جس میں انہوں‌ نے اپنے حامیوں سے کہا ہے کہ وہ آئندہ سال ہونے والے صدارتی انتخابات میں بھرپور طریقے سے حصہ ڈالیں۔ انہوں‌ نے یہ بات اصلاح پسند علما کے ایک گروپ سے ملاقات کے دوران کہی تاہم بیرون ملک موجود ان کے بیٹے حسین کروبی کا نے صدارتی انتخابات سے متعلق اپنے والد کے سامنے آنے والے بیان کی تردید کی ہے۔

مہدی کروبی کی مقرب 'سحام نیوز' ویب سائٹ کے مطابق مہدی کروبی عام طور پر اپنے سیاسی نوعیت کے بیانات تحریری طور پر، کھلے مکتوبات یا اپنے خاندان کے افراد کے ذریعے زبانی پہنچاتے ہیں۔

خود مہدی کروبی کی طرف سے صدارتی انتخابات میں حصہ لینے پر زور دینے سے متعلق بیان کی تردید نہیں کی گئی۔ ان کا کہنا ہے کہ جب تک میں محصور ہوں اور لوگوں‌سے براہ راست بات کرنے کے قابل نہیں تک میرے بیانات تحریری، زبانی اور کھلے مکتوبات کے ذریعے عوام تک پہنچ سکیں گے۔

مہدی کروبی کی سیاسی جماعت 'اعتماد ملی' کے ایک سینیر رہ نما اسماعیل دوستی نے کہا ہے کہ حال ہی میں مہدی کروبی نے جماعت کے ایک دوسرے رہ نما کے گھر میں ہونے والی ملاقات میں سنہ 2021ء کے صداراتی انتخابات میں حصہ لینے پر زور دیا تھا۔

مسٹر دوستی کا کہنا ہے کہ مہدی کروبی آئندہ سال ہونے والے صدارتی انتخابات کو پارلیمانی انتخابات سے الگ دیکھتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ صدرمملکت کسی نا کسی جماعت سے تعلق رکھے گا اور عوام کو اس کی چنائو میں اپنا حصہ ڈالنا چاہیے۔

مہدی کروبی کے جلا وطن صاحب زادے محمد حسین کروبی نے حال ہی میں ایک بیان میں کہا تھا کہ ان کے والد پر گھر پر نظر بندی کے حوالے سے عاید کی گئی پابندیوں میں بہ تدریج نرمی کی گئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سنہ 2018ء میں ایرانی حکام نے ان کے والد کو بعض ٹی وی چینل دیکھنے اور اخبارات تک رسائی کی اجازت دی تھی۔ حال ہی میں انہوں‌ نے اپنے قریبی ساتھی قدرت اللہ علی خانی کے گھر پرہونے والی ایک میٹنگ میں‌ شرکت کی۔ ان کے گھر پر مہدی کروبی سے ان کے چھ دیگر ساتھیوں نے ملاقات کی۔ یہ پہلا موقع ہے کہ ایرانی حکام نے مہدی کروبی کو اپنی رہائش گاہ سے باہر دوسرے رہ نما کے گھر میں ہونے والی ملاقات میں شرکت کی اجازت دی گئی ہے۔

مہدی کروبی کے فرزندان کا کہنا ہے کہ ایرانی حکام نے ایک ماہ قبل ان کے والد پر عاید کی گئی پابندیوں میں نرمی کی ہے جس بعد وہ گھر سے باہر مخصوص دوستوں کے ساتھ ملاقات کرسکتے ہیں۔

مہدی کروبی نے رواں سال 8 جنوری کو تہران میں‌ یوکرین کا ایک مسافر ہوائی جہاز مار گرائے جانے کے واقعے پر سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ طیارہ حادثے کے بعد خامنہ ملک کی قیادت کے اہل نہیں رہے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں