.

ولایت فقیہ خون بہا رہی ہے... ایرانی عالم دین نے احتجاجاً اپنا عمامہ اتار دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کی معروف مذہبی شخصیت عین اللہ رضا زادہ جویباری نے اپنا عِمامہ (پگڑی) اور علماء کی رِدا اتار دینے کا اعلان کیا ہے۔ جویباری کا کہنا ہے کہ یہ اقدام ایران کے اُن نوجوانوں کے خون کے اکرام کے لیے ہے جو اُن کے مطابق ولایت فقیہ کے نظام کے ہاتھوں ظالمانہ طریقے سے بہایا گیا۔

جویباری ایرانی نظام پر اپنی شدید تنقید کے حوالے سے جانے جاتے ہیں۔ سوشل میڈیا پر جاری ایک وڈیو میں انہوں نے "ولایت فقیہ کی خاطر شیعوں کے فقہ کے استحصال" پر کڑی نکتہ چینی کی۔ جویباری کے مطابق ایران میں حکمرانی کرنے والی مذہبی شخصیات نے اپنے اقتدار کو باقی رکھنے کی خاطر شریعت کے بنیادی احکام میں تحریف کر ڈالی۔

ایرانی عالم نے مزید کہا کہ ان لوگوں نے کفر کے خلاف لڑائی کے نام پر روٹی بھی چھین لی ہے۔ جویباری نے باور کرایا کہ ملک میں سیاسی مذہبی شخصیات نے دین کو آلودہ کر دیا ہے۔

حکومت مخالف موقف رکھنے والے جویباری نے اپنی گفتگو کے اختتام پر کہا کہ "میں اپنے عمامے کو اتار رہا ہوں اور اب میں ایرانی اور قومی شرف و منزلت کی ٹوپی زیب تن کروں گا .. اور ایرانی عوام کی اس آزاد خود ارادیت کے سامنے اپنا سر تسلیم خم کروں گا جو مستقبل قریب میں پوری ہو جائے گی"۔

واضح رہے کہ عین اللہ رضا زادہ جویباری کا شمار ایران میں ولایت فقیہ کے حکمراں نظام پر تنقید کرنے والی شخصیات میں ہوتا ہے۔ گذشتہ دہائیوں کے دوران ان کو کئی بار گرفتار کر کے جیل بھیجا گیا۔ گرفتاری کے دوران ان پر کئی مرتبہ "حکمراں نظام کے خلاف پروپیگنڈا کرنے" اور "جھوٹ پھیلانے" کے الزمات عائد کیے گئے۔

آخری بار جویباری کو دسمبر 2019ء میں ایرانی وزارت انٹیلی جنس کی جانب سے گرفتار کیا گیا تھا۔ اس کی وجہ نومبر 2019ء کے عوامی احتجاج میں ہلاک ہونے والے افراد کی تعزیتی رسومات میں جویباری کی شرکت تھی۔ انہوں نے اورمیہ شہر میں انٹیلی جنس کے مرکز میں 5 راتیں حراست میں گزاریں۔ بعد ازاں انہیں میاندواب کی جیل منتقل کر دیا گیا۔ یہاں جویباری نے یہاں 13 راتوں کے لیے بھوک اور دوا ہڑتال کر دی۔ اس کے بعد ایرانی عالم دین کو عدالتی کارروائی تک کے لیے رہا کر دیا گیا جس کی ابھی تک تاریخ مقرر نہیں کی گئی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں