.

ایران: انٹرنیٹ پیغام رسانی ایپس کی تیاری میں پاسداران انقلاب کی شمولیت کیوں؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایرانی پاسداران انقلاب جہاں ایک طرف اندرون اور بیرون ملک عسکری کارروائیواں میں پیش پیش ہے وہیں پاسداران انقلاب اندرون ملک انٹرنیٹ کو کنٹرول کرنے اور شہریوں کی سماجی آزادیوں میں بھی مداخلت کر رہا ہے۔

ایک رپورٹ کے مطابق پاسداران انقلاب اور ایرانی فوج مقامی سرچ انجن کی تیاری کے ساتھ ساتھ انٹرنیٹ پر پیغام رسانی کے لیے استعمال ہونے والی ایپس کی تیاری پر بھی کام کر رہی ہے۔

ایران میں‌ مقامی سطح پر اس پروگرام کو 'انٹرنیٹ میسیجنگ نیٹ ایپس نیٹ ورک ڈویپلمنٹ' کا نام دیا گیا ہے۔

ایران کے ٹیلی کام کے وزیر محمد جواد ازری جھرمی نے بتایا کہ پاسداران انقلاب کے ماتحت ایرانی جنرل اسٹاف "انٹرنیٹ پیغام رسانی ایپس کے بنیادی ڈھانچے کی ترقی" میں اپنا کردار ادا کرے گا۔

ایرانی خبر رساں ایجنسی "ارنا" کے مطابق جہرمی نے اتوار کے روز "قومی انفارمیشن نیٹ ورک برائے ڈیٹا سینٹر" کی افتتاحی تقریب کے موقع پر ایک تقریر میں کہ مقامی سرچ انجن ایک اور اہم مسئلہ ہے جسے جنرل اسٹاف کی مدد سے تیار کیا جائے گا۔

خیال رہے کہ پیغام رسانی اور مقامی انٹرنیٹ ایپس نیشنل نیٹ ورک کے قیام کا منصوبہ ایران کو ورلڈ وائڈ ویب سے الگ کرنے کے مقصد کے تحت شروع کیا گیا ہے۔ جہرمی نے کہا کہ اب ہمیں انٹرنیٹ کو منقطع کرنے اور غیر ملکی سوشل نیٹ ورکس کو محدود کرنے کے بارے میں کوئی فکر نہیں ہے۔

ایران میں "سائبر کونسل کے سربراہ" ابو الحسن فیروزآبادی نے دھمکی دی تھی کہ اگر وہ اسلامی جمہوریہ کی سرخ لکیروں پر عمل نہیں کرتے ہیں تو انٹرنیٹ پر تمام غیر ملکی پلیٹ فارم بند کر دیے جائیں گے۔

فیروزآبادی نے اتوار کے روز ایک ٹی وی پروگرام کے دوران کہا کہ گر یہ پلیٹ فارم ایران کے قوانین پر عمل نہیں کرتے اور حکومت کے خلاف ثقافتی ، سماجی ، سیاسی اور سلامتی سے متعلق ممنوعہ مواد شائع کرتے ہیں توان پر پابندی عائد کردی جائے گی۔