.

ترکی : اپوزیشن کا ایردوآن کے داماد پر ملک کی معیشت تباہ کر دینے کا الزام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترکی میں حزب اختلاف کی جماعت ریپبلکن پیپلز پارٹی نے آزادیِ عامّہ ، آزادیِ صحافت، ترک کرنسی لیرہ کی قدر میں کمی اور کرونا وائرس کی وبا سے نمٹنے کے حوالے سے صدر رجب طیب ایردوآن کی پالیسی کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

پارٹی کے ترجمان فائق اوزتراک نے پیر کے روز ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ " یک فردی نظام نے آج ہمارے عوام کے سامنے گذشتہ دو برسوں کے دوران ترکی میں جمہوریت کے انڈیکس میں واقع ہونے والی کمی کو ظاہر کر دیا ہے۔ ہر آنے والے دن ہمارے سامنے ایک نیا جمہوریت مخالف فیصلہ سامنے آ جاتا ہے۔ آزاد میڈیا کو خاموش کرا دیا گیا ہے۔ عوام کے منتخب کردہ میئرز کو برطرف کیا جا رہا ہے اور عوام پر ٹیکس نافذ کیے جا رہے ہیں. جو لوگ محلاتی حکومت کے مخالف ہیں انہیں جیلوں میں ڈالا جا رہا ہے"۔

اوزتراک کے مطابق لوگوں کے سر قلم کرنے والے داعشی درندے کو جو ترکی میں داعش کا امیر کہلاتا ہے ،،، اسے ٹھوس ثبوت کی عدم فراہمی پر 10 بار رہا کیا جا چکا ہے۔

ملک کی اقتصادی صورت حال کے حوالے سے اوزتراک نے کہا کہ "وزیر خزانہ بیرات البیرق (ایردوآن کا داماد) فخر سے بتاتے ہیں کہ ہم نے آئی ایم ایف کو 22.5 ارب ڈالر ادا کیے۔ یہ قرضہ انہوں نے خود لیا تھا۔ عوام کا پیٹ ان فضول دعوؤں سے بھر چکا ہے۔ خود صدارتی محل ان کی بیان کردہ کہانوں پر یقین نہیں کرتا ہے"۔

کرونا کی وبا کے سلسلے میں اوزتراک کا کہنا تھا کہ "اس وبائی مرض کے دوران نہ صرف لوگوں کی جیب خطرے میں پڑ گئی بلکہ عوام کی زندگی بھی خطرے سے دوچار ہے۔ وبا کا شکار ہونے والے افراد کی تعداد میں ایک بار پھر سے اضافہ ہو رہا ہے۔ سائنسی کمیٹی کے ارکان کا کہنا ہے کہ کیے جانے والے فیصلوں میں ان کا کوئی کردار نہیں۔ اس کے بعد وزیر صحت نے کہا کہ انہوں نے شادی ہال کھولنے کا مطالبہ نہیں کیا۔ ٹھیک ہے اگر سائنسی کمیٹی اور وزیر صحت نے انسداد کرونا کے حوالے سے فیصلے نہیں کیے تو پھر یہ فیصلے کون کر رہا ہے ؟ یقینا پھر یہ صدارتی محل سے سامنے آ رہے ہیں"۔

اوزتراک کے مطابق " یہ ایردوآن نہیں تھے جنہوں نے ہمارے عوام کو ایک ہفتہ قبل گیرسن صوبے میں مچھلی کے ڈبے کی شکل میں لوگوں کو کھچا کھچ جمع کیا ہوا تھا۔ اب وہ کہہ رہے ہیں کہ شادیوں کی تقریب میں ہوشیار رہا جائے۔ آپ لوگ سماجی دوری کے اصولوں کو لاگو کیوں نہیں کر رہے ہیں اور نہ چہروں پر ماسک لگا رہے ہیں۔ ایردوآن اب تمام تر ذمے داری شہریوں پر ڈال رہے ہیں"۔

ریپبلکن پیپلز پارٹی کے ترجمان نے باور کرایا کہ دوسری جانب جسٹس اینڈ ڈیولپمنٹ پارٹی کے رکن پارلیمنٹ نے 1500 افراد کی موجودگی میں بنا کسی اصول اور ضابطے پر عمل کیے شادی کی تقریب منعقد کی جس کو ٹی وی کی اسکرینوں پر دیکھا گیا۔ کیا قانون اور سزا صرف غریب عوام پر نافذ ہوتی ہے ، کیا وزیر صحت اس تقریب کے بارے میں کچھ کہنے کی قدرت رکھتے ہیں ؟ یا پھر ایردوآن اندھے ، گونگے اور بہرے کا کردار ادا کریں گے جیسا کہ انہوں نے گیرسن کے عوامی اجتماع کے موقع پر کیا تھا۔