.

حوثی ملیشیا نے صنعاء ایئرپورٹ کو اقوام متحدہ کی پروازوں کے لیے بند کر دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن میں حوثی ملیشیا نے دارالحکومت صنعاء کے ہوائی اڈے کو اقوام متحدہ اور بین الاقوامی تنظیموں کی پروازوں کے لیے بند کر دینے کا اعلان کیا ہے۔ ملیشیا نے اقوام متحدہ کو آگاہ کر دیا ہے کہ ہوائی اڈے کی بندش کا آغاز کل بدھ کے روز سے ہو گا۔

یہ بات بین الاقوامی طور پر غیر تسلیم شدہ حوثی حکومت کے وزیر ٹرانسپورٹ زکریا الشامی نے صنعاء میں ایک ایونٹ کے دوران دیے گئے بیان میں بتائی۔ الشامی کے مطابق تیل کی مصنوعات کے حامل بحری جہازوں کو حراست میں رکھنے اور انہیں الحدیدہ کی بندرگاہ میں داخل ہونے سے روکے رکھنے کے سبب یمنی عوام کے لیے انسانی المیے نے جنم لیا ہے۔

صنعاء کا بین الاقوامی ہوائی اڈہ اقوام متحدہ ، ریڈ کراس انٹرنیشنل ، ڈاکٹرز وِد آؤٹ بارڈرز سمیت دیگر بین الاقوامی تنظیموں کی جانب سے امداد کی منتقلی اور اقوام متحدہ کے ملازمین کی آمد و رفت کے لیے بنیادی راستہ ہے۔

رواں سال جولائی کے اواخر میں حوثی ملیشیا نے الحدیدہ کی بندرگاہ کے راستے حوثیوں کے زیر کنٹرول علاقوں میں پھر سے ایندھن کے داخلے کے حوالے سے یمنی حکومت کے منصوبے کو مسترد کر دیا تھا۔

اس موقع پر یمنی حکومت نے شرط رکھی تھی کہ الحدیدہ کی بندرگاہ میں داخل ہونے والے تمام بحری جہازوں کی آمدنی کو ایک خصوصی اکاؤنٹ میں رکھا جائے جو حوثیوں کے کنٹرول میں نہ ہو۔ اس حوالے سے حکومت نے ایک ایسے طریقہ کار کے امکان کو بھی قبول کر لیا تھا جس کے تحت مذکورہ آمدنی اقوام متحدہ کی نگرانی میں محفوظ کی جائے ،،، اور اس رقم کو پورے یمن میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں کی ادائیگی میں استعمال کیا جائے۔

حوثیوں کے زیر کنٹرول علاقوں میں کئی ماہ سے ایندھن کی شدید قلت کا سامنا ہے۔ حوثی ملیشیا اس حوالے سے عرب اتحاد اور یمنی حکومت پر الزام عائد کرتی ہے کہ انہوں نے تیل کے بیس بحری جہازوں کو حراست میں لے رکھا ہے۔ دوسری جانب یمنی حکومت کا کہنا ہے کہ حوثی ملیشیا نے گذشتہ چند ماہ کے دوران 6.6 کروڑ ڈالر کی رقم ہتھیا لی۔ اس رقم کا تعلق تیل کے ان بحری جہازوں کی آمدنی سے ہے جس کے حوالے سے پہلے یہ اتفاق رائے ہو چکا ہے کہ اسے ملک میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں کی ادائیگی کے لیے مخصوص کیا جائے گا۔