.

محمود عزت کی گرفتاری نے اخوان کا اندرون اور بیرون ملک نیا پینڈورا بکس کھول دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

حال ہی میں مصری حکام نے دعویٰ‌ کیا کہ پولیس نے کالعدم مذہبی سیاسی جماعت اخوان المسلمون کے ایک مفرور لیڈر محمود عزت کی گرفتاری کے بعد تنظیم کی اندرون اور بیرون ملک سرگرمیوں‌ کے بارے میں اہم انکشافات ہوئے ہیں۔

محمود عزت کئی سال سے مصر میں روپوش رہے۔ گرفتاری سے قبل تک وہ اخوان کے قائم مقائم مرشد عام کے طور پر بھی کام کرتے رہے ہیں۔ محمود عزت کو 'اخوان کا بلیک باکس' کہا جاتا ہے۔ اس کی وجہ ان کے پاس جماعت کے اہم رازوں کی موجودگی بتائی جاتی ہے۔

محمود عزت کی گرفتاری نے ایک انکشاف یہ کیا کہ اندرون اور بیرون ملک موجود اخوان کی قیادت میں شدید نوعیت کے اختلافات موجود ہیں اور ان اختلافات کا دائرہ وسیع ہو جا رہا ہے۔ یہاں تک کہ محمود عزت کی گرفتاری بھی انہی اختلافات کا شاخسانہ ہے کیونکہ ترکی میں مقیم ایک اخوانی راہ نما نے سوشل میڈیا پر محمود عزت کے ساتھ اس انداز میں رابطہ کاری کی مصری سیکیورٹی اداروں کو عزت کا پتا چلانے میں مدد ملی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ محمود عزت، ترکی میں موجود اخوان المسلمون کے سیکرٹری جنرل محمود حسین اور برطانیہ میں موجود نائب مرشد عام ابراہیم منیر بھی اخوان کے مرشد عام کے امیدوار بننے کی کوشش کر رہے تھے۔ تاہم اخوان کے نوجوانوں نے ان دونوں کو اس لیے مسترد کر دیا کیونکہ مذکورہ دونوں شخصیات اخوان المسلمون کی صفوں میں پھوٹ ڈالنے کے ذمہ دار ہیں۔ ابرہایم منیر اور محمود حسین نے اخوان کے انتظامی اور مالی اداروں کو اپنی گرفت میں لینے کی کوشش کی۔

جہاں تک محمود عزت کا تعلق ہے تو وہ اخوان کی ایک جانی پہچانی شخصیت ہیں۔ گذشتہ کئی سال سے مصر کے سیکیورٹی ادارے انہیں تلاش کر رہے تھے مگر وہ بار بار اپنے ٹھکانے بدلتے اور اداروں سے چھپتے رہے۔ محمود عزت کو اخوان کی ذیلی تنظیموں اور کمیٹیوں کی بھی نگران کرتے رہے۔

ان کے مقربین میں ایک نام ممدوح احمد عبدالمعطی الحسینی کا ہے۔ ممدوح الحسینی قاہرہ میں 1947ء کو پیدا ہوئے اور عین شمس یونیورسٹی سے میکینیکل انجینیرنگ کی ڈگری حاصل کی۔ ان کے تین بیٹے بھی اخوان کا حصہ رہے۔ سنہ 2012ء میں ان کا ایک بیٹا محمد پولیس کے ساتھ جھڑپ میں مارا گیا۔

الحسینی سنہ 1978ء کو اخوان میں شامل ہوئے اور مصطفیٰ مشہور کے ہاتھ پر بیعت کی۔ الحسینی ایک کاروباری شخصیت ہیں اور انہوں‌نے جماعت کے مالیاتی نیٹ ورک میں ایک ارب پاونڈ سرمایہ کاری کی۔ ان پر سیکیورٹی اداروں پرحملوں سمیت کئی دوسرے جرائم میں مقدمات قائم ہیں۔