.

ایران ملیشیاوں کی مدد سے خطے کی سلامتی کو تباہ کر رہا ہے: سعودی عرب

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب نے عرب خطے میں ایرانی مداخلت پر اپنے رد عمل میں کہا ہے کہ تہران خطے کی ملیشیاوں کی مدد کرکے عرب ممالک کی سلامتی کو نقصان پہنچا رہا ہے۔

سعودی وزارت خارجہ نے بدھ کے روز ایک بیان میں کہا کہ ایرانی حکومت مسلح ملیشیاؤں کی مدد کرکے عرب خطے کی سلامتی کو خطرات میں ڈال رہی ہے۔ ایرانی حمایت یافتہ ملیشیائیں بہت سے عرب ممالک میں تباہی اور انتشار پھیل رہی ہیں۔

سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے عرب لیگ کے وزرائے خارجہ اجلاس سے خطاب میں کہا کہ ہمارے عرب خطے کو درپیش سب سے سنگین خطرہ ایرانی حکومت کی طرف سے ہے۔ جوعرب ملکوں کی سلامتی اور استحکام کو خطرے میں ڈالتے ہوئے الاقوامی قوانین ، معاہدوں اور اصولوں کی مسلسل خلاف ورزی کر رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہمیں داخلی عرب امور میں تمام غیر ملکی مداخلت کے خلاف سنجیدہ موقف اپنانا چاہیئے۔

انہوں نے کہا کہ فلسطینی قوم کے لیے ہمارے موقف میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ فلسطینی قوم کی آزادی تک حمایت جاری رکھی جائے گی۔

لیبیا کے مسئلے کے بارے میں وزیر فیصل بن فرحان نے کہا کہ سعودی عرب لیبیا میں جنگ بندی کے قیام اور خونریزی کے فوری خاتمے پر زور دیتا ہے اور لیبیا کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت اور اتحاد کو برقرار رکھنے کا مطالبہ کرتا ہے۔

انہوں نے لیبیا میں جنگ بندی سے متعلق سعودی موقف کو دہرایا اور کہا کہ ہم لیبیا میں‌پائے دار امن کے قیام کے لیے بیرونی سیاسی مداخلت کے بغیر لیبیا کی نمائندہ قوتوں کے درمیان بات چیت اور مذاکرات پر زوردیتے رہیں‌ گے۔

انہوں‌ نے عراق اور لبنان کی خود مختاری کی بھی حمایت کی اور ان ملکوں‌ میں ایرانی مداخلت کو مسترد کر دیا۔