.

خطے میں ترکی کے ’مکروہ‘ عزائم پر خاموش نہیں رہ سکتے: مصر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصری وزیر خارجہ سامح شکری نے ترکی کی جانب سے عرب ممالک میں جاری فوجی مداخلت کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ خطے میں انقرہ کی کھلی مداخلت پر مبنی کارروائیوں‌ پر قاہرہ خاموش تماشائی نہیں رہے گا۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق عرب وزراء خارجہ کے ترکی کی مداخلت سے متعلق ورچوئل اجلاس سے خطاب میں سامح شکری کا کہنا تھا کہ خطے میں ترکی کی مداخلت عربوإ کی قومی سلامتی کو درپیش ایک بڑا چیلنج ہے۔ ترکی کی مداخلت سے مصر بھی محفوظ نہیں مگر ہم انقرہ کو کھیل کھیلنے کی اجازت نہیں دیں‌ گے۔

اجلاس سے خطاب میں مصری وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ ترکی شمالی عراق، لیبیا اور شام میں کھلم کھلا مداخلت کر رہا ہے مگر ہم ترکی کے توسیع پسندانہ عزائم پر خاموش تماشائی نہیں رہیں گے۔

سامح‌ شکری نے لیبیا میں ترکی کی فوجی مدخلت بند کرنے اور لیبیا میں بھیجے گئے تمام غیرملکی جنگجووں کو وہاں سے نکالنے کا مطالبہ کیا۔

انہوں‌ نے کی ترکی کی طرف سے مداخلت پر عراق کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا اور کہا کہ عراق کی خود مختاری کی بار بار پامالیوں‌ پر ترکی کے خلاف عراق کے ساتھ کھڑے ہیں۔

مصری وزارت خارجہ کے ترجمان احمد حافظ نے بتایا کہ وزیر خارجہ نے اجلاس سے‌خطاب میں ترک رجیم کی عرب ممالک میں مداخلت پر تفصیلی گفتگو کی اور کہا کہ ترکی عرب ممالک میں‌فرقہ واریت کے بیج بونے کی کوشش کر رہا ہے۔

انہوں‌ نے کہا کہ ترکی نے لیبیا کو غیر ملکی جنگجووں میں غرق کردیا ہے۔ اس کے علاوہ انقرہ نے ہزاروں دہشت گردوں کو شام میں آمد و رفت کی مکمل سہولت فراہم کی۔