.

سعودی عرب میں تیل پر پہلا تخلیقی میوزم تیار کرنے کا منصوبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کی وزارت ثقافت نے "دی بلیک گولڈ میوزیم" کے عنوان سے شاہ عبداللہ سنٹر برائے پٹرولیم اسٹڈیز اینڈ ریسرچ کے اشتراک سے تیل پر پہلا مستقل میوزیم تیار کرنے کا انکشاف کیا ہے۔ میوزیم کا افتتاح جولائی 2022 ء میں ریاض میں مرکز کے صدر دفتر قائم کیا جائے گا۔ اس کی تیاری میں دنیا کے مختلف ممالک کے ماہرین اور آرٹسٹ شرکت کریں گے۔

العربیہ ڈاٹ‌ نیٹ کے مطابق قدرتی تیل اور اس کی دیگر مصنوعات، آلات، اس کی ایجاد کی معلومات پر مبنی عجائب گھر کو یہ خصوصیت حاصل ہو گی کہ اس میں جدید زندگی کے تصورات پر مبنی جدید تیل کے فن پارے، انسانی زندگی پراس کے اثرات، تیل کی آمد کے بعد معاصری انسانی تاریخ میں تغیرات، تیل کے خام مال سے لے کر اس کی معاصر زندگی میں تخلیقی روایات تک کی تفصیلات فراہم کی جائیں گی۔

سعودی پریس ایجنسی "ایس پی اے" کے مطابق میوزیم کوالٹی آف لائف پروگرام اور مملکت کے وژن 2030 پروگراموں میں سے ایک ہے۔ وزارت ثقافت کی جانب سے اپنے پہلے منصوبوں کے پیکیج میں شامل میوزیم میں تخلیقی شعبوں میں آرٹ اور مہارتوں کے حصول کو فروغ دینا ہے۔

بلیک گولڈ میوزیم

بلیک گولڈ میوزیم میں 200 سے زیادہ معاصر فن پاروں پر مشتمل ہو گا۔ اس کے تمام سیکشنز کی سالانہ نمائشوں کا بھی اہتمام کیا جائے گا۔ اس میوزیم میں تعلیمی پروگرامات بھی منعقد کئے جائیں گے۔ کنگ عبد اللہ پٹرولیم اسٹڈیز اینڈ ریسرچ سینٹر میں میوزیم کے صدر دفتر میں متعدد فنکارانہ مقامات میں عصری فنون ، تصویری پرفارمنس اور ملٹی میڈیا کے لیے ایک مقررہ جگہ کے علاوہ عارضی نمائشوں کے لیے ایک متوازی جگہ ، دکانیں، کیفے ، کانفرنس روم اور تعلیمی و مشاورتی ہال شامل ہیں۔

میوزیم میں انسان اور تیل کے درمیان انوکھے رشتے کو ایک کہانی کی شکل میں بیان کیا جائے گا۔ اس میں انسان اور تیل کے مابین تشکیل پانے والے تعلقات پر روشنی ڈالی جائے گی۔